BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 February, 2004, 17:40 GMT 22:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جوہری تفتیش سازش ہے‘ بیگ
News image
ڈاکٹر قدیر نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی فراہ کی ہے۔
پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے جوہری پھیلاؤ میں پاکستان کے کردار سے متعلق جاری تفتیش کو پاکستان کے خلاف امریکہ اور برطانیہ کی سازش قرار دیا ہے۔

یہ بات انہوں نے بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سامعین کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ سبق ملا ہے کہ جن ملکوں کو وہ دوست سمجھتا ہے ان سے اب چھان پھٹک کر تعلقات قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا اس میں امریکہ اور برطانیہ برابر کے شریک ہیں۔

جنرل بیگ نے کہا کہ جب ان ملکوں کو معلوم تھا کہ تو پھر انہوں نے پہلے کیوں نہیں بتایا اور اس معاملے کو کیوں اتنا پھیلنے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا اصل مقصد سائنسدانوں اور پاکستان کو ذلیل کرنا ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ سوچ سمجھ کر اس سازش کو ناکام بنائے۔

اس پروگرام میں جنرل اسلم بیگ کے علاوہ سابق صدر فاروق لغاری اور سابق وزیر اطلاعات اور حالیہ سینیٹر مشاہد حسین نے بھی شرکت کی۔

گزشتہ دونوں جوہری پھیلاؤ میں پاکستان کے جوہری سائنسدان عبدلقدیر خان کے اعتراف اور اس کے پاکستان پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں سامعین کے سوالات کے جواب دینے کے لئے بی بی سی اردو سروس نے پاکستان کے سابق صدر فاروق احمد لغاری، پاکستان آرمی کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ اور نواز حکومت کے وزیراطلاعات اور موجودہ سینیٹر مشاہد حسین کو اپنے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں مدعو کیا۔ ان مہمانوں کے علاوہ خان ریسرچ لیبارٹری سے تعلق رکھنے والے زیر تفتیش بریگیڈیئر سجاول کے بیٹے ڈاکٹر شفیق بھی پروگرام میں شریک ہوئے۔

سینیٹر مشاہد حسین نے پاکستان پر امریکی دباؤ کے بارے میں کہا کہ امریکہ کا دباؤ کبھی اصولی نہیں رہا بلکہ یہ سیاسی مفادات کے تحت ہوتا ہے اور چونکہ اس وقت اس دہشت گردی کے خلاف ’اس کی نام نہاد‘ جنگ میں پاکستان اس کا حامی ہے اس لئے پاکستان پر وہ دباؤ نہیں بڑھائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا ہمیشہ دوہرا معیار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعاون پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جس طرح ایران اور لیبیا ’بھاگے‘ ہیں اس سے مسلم امہ کو دھچکہ لگا ہے۔

مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ کسی بھی دباؤ کو روکنے کا سب سے کارگر اور یقینی طریقہ جمہوری حکومت ہے اور کسی بھی طرح کے دباؤ کا مقابلہ عوام اور پارلیمنٹ کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ترکی اور لبنان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ترکی نے عراق پر حملے کے لئے امریکی فوج کو اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دی کیونکہ وہاں کی پارلیمان نے اس کی مخالفت کی۔ اسی طرح لبنان کی پارلیمان نے حزب اللہ پر پابندی نہیں لگنے دی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی ’نیک نیتی‘ کے بارے میں مشاہد حسین نے کہا کہ ممکن ہے ان کی یہ سوچ رہی ہو کہ جوہری پروگرام میں مغرب اور غیرمسلم ملکوں کی اجارہ داری کو ختم کیا جائے۔

پاکستان کے جوہری پروگرام کے پھیلاؤ کو روکنے کے بارے میں سابق صدر فاروق لغاری نے کہا کہ جو بھی کچھ ممکن تھا وہ کیا گیا۔ اور پاکستان کا یہ فیصلہ تھا کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کسی کو نہیں دے گا۔ تاہم چونکہ ڈاکٹر قدیر نے پاکستان کے لئے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا تھا لہذا اپنے پروگرام کے لئے انہیں مکمل آزادی حاصل تھی۔ اس لئے اگر انہوں نے اپنے طور پر کوئی فیصلہ کیا تو پھر یہ سائنسدان اس پائے کے تھے کہ کچھ بھی کر سکتے تھے۔

فاروق لغاری نے کہا کہ تجربہ گاہ میں خفیہ ایجنسیوں کے لوگ بھی تعینات تھے اور یہ ان لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس پر نگاہ رکھیں۔

مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ تجربہ گاہ کے اندر فوج کا کوئی عمل دخل نہیں تھا بلکہ برّی اور فضائی فوج کی ذمہ داری کے آر ایل کو دشمن سے بچانے کی تھی اور اس کی حفاظت پر فوج مامور تھی۔

اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ سن چھہتر سے بانوے تک کے آر ایل کے لوگ صدر اور وزیراعظم کو جواب دہ تھے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے اس بیان کو کہ انہیں کے آر ایل میں داخلے کی اجازت نہیں تھی محض سیاسی بیان قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر کے دور ہی میں فیصلہ کیا گیا کہ یوریینیم کی افزودگی کو پچانوے سے پانچ فیصد پر لایا جائے۔

اس سوال پر کہ ایسا فیصلہ کیوں کیا گیا انہوں نے کہا کہ چونکہ جوہری پروگرام کےمقاصد حاصل ہو چکے تھے اور افزودہ یورینیم کو سنبھالنا دشوار کام ہے اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ اسے ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ ذمہ داری مشترکہ طور پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم اگر پاکستان کے جوہری پروگرام کو عام طریقہ سے چلایا جاتا تو پاکستان کے لئے ممکن ہی نہ ہوتا کہ وہ جوہری طاقت بنتا۔

اس سوال کے جواب میں کہ جب ڈاکٹر قدیر پر ہالینڈ میں مقدمہ چل رہا تھا تو پاکستان نے موقف اختیار کیا تھا کہ علم کسی کی میراث نہیں ہے، مشاہد حسین نے کہا کہ یہ بات بالکل جائز ہے۔ مگر یہاں سوال علم کے تبادلے کا نہیں بلکہ الزامات کے مطابق اسے کاروبار بنا لیا گیا تھا اور اس میں ذاتی منفعت شامل ہوگئی تھی۔

ڈاکٹر قدیر پر دباؤ کے بارے میں ایک سوال پر مشاہد حسین نے کہا کہ ان کے خیال میں انہوں نے اعتراف کا فیصلہ بغیر کسی دباؤ کے کیا ہے کیونکہ وہ کسی کے دباؤ میں آنے والے آدمی نہیں ہیں۔

جوہری ٹیکنالوجی کے تبادلے کے بارے میں زیر تفتیش بریگیڈیئر سجاول کے صاحبزادے ڈاکٹر شفیق نے کہا کہ اس پورے معاملے میں عمومی باتیں کہی گئیں ہیں اور جوہری ٹیکنالوجی کے نقشہ تو درسی کتابوں میں موجود ہیں جبکہ پرزے مغربی ممالک میں بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک آلات کی فراہمی کا تعلق ہے تو فوجی جہازوں کے استعمال کے بارے میں بھی تو خبریں شائع ہوئی ہیں پھر دوسرے لوگوں کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا۔

اس پر جنرل بیگ نے کہا کہ اگر سی ون تھرٹی کے استعمال کی خبر درست ہے تو پھر تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جانا چاہئے تھا۔

ڈاکٹر شفیق نے ذاتی فائدے کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کی تفتیش کی جا رہی ہے ان لوگوں کا طرز زندگی اور ان کے بچوں کی تعلیم اور تربیت کو دیکھا جائے۔

پروگرام میں دنیا بھر سے بی بی سی کے سامعین نے شرکت کی جنہوں نے جوہری پروگرام کی تحفظ، جوہری پھیلاؤ کے ذمہ داروں اور ان سے تفتیش کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد