BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 March, 2004, 16:12 GMT 21:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کا جوہری مستقبل ایک سوال

پاکستان کے جوہری پروگرام کا مستقبل ایک سوال
جوہری سائنسدان عبدالقدیر خان
پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے جوہری پروگرام سے متعلق حالیہ انکشافات پر پچھلے دنوں ملک میں خاصی کھلبلی مچی رہی۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس دوران تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ اس پروگرام سے منسلک معلومات بیرون ممالک کو کس طرح فراہم کی گئی۔

لیکن ملک کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے مستقبل پر توجہ نہ ہونے کے برابر رہی۔

 جوہری طاقت کو مستحکم کرنے میں اگر عوام کو اپنا پیٹ کاٹ کر گھاس بھی کھانا پڑی تو کوئی حرج نہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو

انیس سو ستر کی دہائی میں جب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا دور تھا تو ان پر جیسے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو بھارت سے کسی طور کمزور ثابت نہ کرنے کا بھوت سوار تھا۔

کہا جاتا ہے کہ جناب بھٹو نے کہا تھا کے جوہری طاقت کو مستحکم کرنے میں اگر عوام کو اپنا پیٹ کاٹ کر گھاس بھی کھانا پڑی تو کوئی حرج نہیں۔

اب جب کہ پاکستان کے پاس جوہری پروگرام موجود ہے تو انہیں اندازہ ہو رہا ہے کے یہ تو ایک زبردست کاروبار ہے جسے مستقل توجہ اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

اور اسی توجہ کا وعدہ صدر پرویز مشرف نے کیا ہے۔ لیکن جوہری امور کے ماہر اور صحافی شاہدالرحمن کا کہنا ہے کے اس میں پرویز مشرف کو ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا بیج کئی برس پہلے بویا گیا تھا۔

شاہدالرحمن کے مطابق ، ”پاکستان کے جوہری پروگرام کی بنیاد سمگل شدہ درآمدی ٹیکنالوجی پر رکھی گئی تھی۔‘ ”ان کے بقول‘ ڈاکٹرعبدالقدیر خان اور ان کے ساتھیوں نے پاک فوج کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوۓ دنیا بھر سے اس پروگرام کے لئے خریداری کی تھی۔

اس لحاظ سے اگر دیکھا جاۓ تو بھارت کا جوہری پروگرام اتنا حساس تو نہیں مگر خود ساختہ ضرور ہے۔ اور اگر بھارت پر پابندیاں نہ لگائی جائیں تو بھارت نقصان میں نہیں رہے گا۔

 پاکستان کے جوہری پروگرام کی بنیاد سمگل شدہ درآمدی ٹیکنالوجی پر رکھی گئی تھی۔
شاہد الرحمن

تجزیہ نگار کے مطابق ، پاکستان کے لئے اپنے جوہری پروگرام کو قانونی طور پر بہتر بنانا ممکن ہی نہیں ہے۔ اور اسی لئے اگر دیکھا جاۓ تو پاکستان کا جوہری پروگرام تقریباً نصف حد تک نا کارہ ہو چکا ہے۔

اور غالباً صدر مشرف نے اسی ناکارہ ہوتے پروگرام کو زندہ رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”ہم اپنے دفاع کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوۓ اپنی جوہری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اور میں اس جوہری پروگرام کو رول بیک یا سمیٹنے والا آخری شخص ہوں گا۔‘

دیکھا جاۓ تو فی الحال پاکستان پر اپنا جوہری پروگرام رول بیک کرنے پر کوئی واضح دباؤ تو نہیں مگر ایسا ہو بھی سکتا ہے اگر اس کے جوہری پروگرام سے متعلق مزید نۓ انکشافات سامنے آتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد