| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل
صدر جنرل پرویز مشرف نے اتوار کو بیرون ملک کے دورے کے اختتام پر وطن واپس پہنچتے ہی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اعٰلی سطحی اجلاس کی صدارت کی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کے جوہری سائنسدانوں سے کی جانے والی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کا کہنا ہے کہ جوہری معلومات بیرون ملک منتقل کیے جانے کے سلسلے میں معلومات تیزی سے مکمل ہورہی ہیں اور جو بھی جوہری معلومات بیرون ملک منتقل کیے جانے میں ملوث پایا گیا اس سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔ جب وفاقی وزیر داخلہ سے پوچھاگیا کہ بعض اطلاعات میں صدر کے مشیر برائے جوہری توانائی اور کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کے سابق سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرف انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں تو انہوں نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی صرف یہ کہا کہ جو ذمہ دار ہوگا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ذمہ داروں کے اصل چہرے بے نقاب ہونے چاہیے ہیں۔ ’یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ جس نے بھی یہ کیا ہے اس نے یقیناً ملک کی کوئی خدمت نہیں کی۔ یقیناً ایک وقت تھا جب یہ پاکستان کے ہیرو کہلواتے تھے اپنے آپ کو ۔۔۔اب اگر وہ ہیرو۔۔۔یا ان میں سے کچھ اصلی چہرہ سامنے آنا شروع ہوگیا ہے تو قوم کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ان کے اصلی چہروں کو بے نقاب کرکے دیکھیں۔‘ وزیر داخلہ نے کہا کہ صرف پاکستان پر کیوں ساری ذمہ داری ڈالی جارہی ہے دوسرے ممالک بھی اپنے ہاں تحقیقات کریں۔ ’آپ نے صدر صاحب کی بات پڑھی ہوگی۔۔۔سنی بھی ہوگی کہ کیا صرف پاکستان ہی تک یہ پروگرام بنا؟۔۔۔کیا اس میں یورپی و دیگر ممالک شامل نہیں ہیں؟۔۔۔کیا یہ صرف پاکستانیوں کا انفرادی عمل ہے؟۔۔۔کیا اس کے باہر کے کوئی تعلقات نہیں ہیں؟۔۔۔‘ دوری جانب اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ سائنسدانوں سے کی جانے والی معلومات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں اور جلد ہی مکمل کرلی جائیں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||