امریکی انکشاف، پاکستانی تردید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ٹیلی ویژن این بی سی کے پروگرام ’نائیٹلی نیوز‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اسلحہ کے تحفظ کے لیے امریکہ اور پاکستان نے مشترکہ طور پر خفیہ اقدامات کیے ہیں تاکہ یہ اسلحہ شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ لیکن پاکستان میں فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے اس انکشاف کو بالکل بے بنیاد اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ بی بی سی اردو کے پروگرام ’جہاں نما‘ میں اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان میں امریکہ میں سابق سفیر رابرٹ اوکلے نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ نے مشترکہ طور پر جوہری اسلحہ کے تحفظ کے لیے خفیہ اقدامات ’یو ایس پاکستان لائیژاں کمیٹی‘ کے تحت کیے ہیں، پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (انٹر سروسز پبلک ریلیشنز یا آئی ایس پی آر) شوکت سربراہ نے کہا کہ یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ ’اس میں کوئی حقیقت نہیں۔۔۔مجھے نہیں معلوم کے انہوں نے یہ خبر کس حوالے سے دی ہے اور کیسے دی ہے؟ اس سلسلے میں نہ تو پہلے ایسے کوئی اقدامات کیے گئے اور نہ ہی آئندہ ایسا کوئی امکان ہے۔‘ میجر جنرل شوکت سلطان نے مزید کہا ’اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان اپنے جوہری اسلحہ اور اثاثوں کی مکمل حفاظت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ابھی چند دن قبل نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس ہوا ہے اور اس اتھارٹی نے بھی اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہر قسم کے اثاثوں کی حفاظت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ’جہاں نما‘ کے میزبان آصف جیلانی کے اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان میں سابق امریکی سفیر رابرٹ اوکلے نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں وہ خود جنرل قدوائی کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ اب بھی پوری طرح مطمئن نہیں ہے، شوکت سلطان نے کہا ’جس رابطے کا وہ ڈکر کررہے ہیں اس بارے میں تو میں کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا لیکن جس خبر کا حوالہ آپ نے دیا ہے اس کے بارے میں میں یہی کہوں گا کہ اس میں کسی قسم کی کوئی حقیقت نہیں۔ میں اس بات کو بھی مکمل طور پر رد کرتا ہوں کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کو کسی قسم کا کوئی خطرہ ہے۔ نہ ان اثاثوں کو شدت پسندوں سے خطرہ ہے نہ کسی اور سے کوئی خطرہ ہے۔پاکستان ان کی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔‘ امریکی وزیر خارجہ لولن پاول کے دورۂ پاکستان اور جنرل مشرف سے مڈاکرات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ’اس بارے مںی میں یہی کہوں گا کہ مناسب یہ ہوگا کہ یہ سوال دفتر خارجہ سے پوچھا جائے۔‘ پاکستان کے جوہری اسلحہ کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جوہری ٹیکنالوجی کے منتقلی کے بارے میں ان کے اعتراف کےبعد معافی دیئے جانے کے بارے میں اس سوال پر کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے باقی ساتھیوں کا کیا بنے گا، آئی ایس پی آر کے سربراہ نے کہا ’صدر صاحب (جنرل پرویز مشرف) نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ابھی ہم ایک بڑے فیصلے سے فارغ ہوئے ہیں ابھی باقی معاملات پر غور کیا جائے گاآ اور اس بارے میں ابھی کچھ کہنا کہ مقدمہ چلے گا یا معافی ملے گی، قبل از وقت ہوگا۔۔۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||