’پاکستان پرامریکی دباؤ نہیں ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ ان کے ملک پر ایران سے گیس پائپ لائن کے متعلق امریکہ کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کو’پاپولیشن ہاؤس‘ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے یہ بیان امریکی صدر جارج بش کی جانب سے اپنی کمپنیوں اور شہریوں کو ایران سے پیٹرولیم کے معاملات میں کاروبار کرنے پر عائد پابندی جاری رکھنے کے اعلان سے محض ایک دن بعد دیا ہے۔ ایران سے پاکستان کے ذریعے بھارت تک چار ارب ڈالر کی لاگت سےگیس پائپ لائن بچھانے کے اس منصوبے کے متعلق وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس ایران کے علاوہ قطر سے سمندر کے ذریعے جبکہ ترکمانستان سے افغانستان کے ذریعے پائپ لائن بچھانے کے ’ آپشن‘ موجود ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے کہا ہے کہ وہ بھارت کے توانائی کے وزیر کو پاکستان آنے کی باضابطہ دعوت دیں تاکہ اس منصوبے کے فنی معاملات پر بات چیت ہوسکے۔ ان کے مطابق ایران کا متعلقہ وزیر بھی اس معاملے پر بات چیت کے لیے اس موقع پر پاکستان میں موجود ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ترکمانستان کا ایک وفد بھی پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے جو اپنے ملک سے پائپ لائن بچھانے پر بات چیت کرے گا۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ رواں سال کے آخر تک ایران یا ترکمانستان سے گیس پائپ لائن کے معاملے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ واضح رہے کہ بھارت کے توانائی کے وزیر سے منسوب شائع ہونے والے ایک بیان میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ امریکہ کا ان پر دباؤ ہے کہ وہ ایران سے پائپ لائن حاصل کرنے کے منصوبے سے باز رہے۔ بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے جمعہ کے روز دہلی میں ایران کے سفارتخانے کے بیان کے حوالے سے ایک خبر بھی شائع کی تھی جس میں ایران نے امریکہ کی جانب سے گیس پائپ لائن کی مبینہ مخالفت پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ خطے میں استحکام پیدا کرنے کوشش نہیں کرسکتا تو کم از کم اسے ایسی کوششوں میں رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہیں۔ وزیراعظم شوکت عزیز سے جب جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب سے ایران کو ’سینٹری فیوج‘ فراہم کرنے کے متعلق وزیراطلاعات شیخ رشید کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں درست طور پر ’ کوٹ‘ نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈاکٹر خان کے سلسلے میں کوئی نئی پیش رفت نہیں ہے اور مزید بات کرنے سے گریز کیا۔ وزیراعظم نے ایک سوال پر کہا کہ لندن میں چودھری شجاعت اور پرویز الہٰی میں سے کسی نے میاں شہباز شریف سے کوئی ملاقات نہیں کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||