شوکت عزیز ایران کے دورے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز تین روزہ سرکاری دورے پر ایران کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ ایرانی رہنماؤوں سے ایران سے پاکستان گیس پائپ لائن پر اہم پیش رفت کی توقع کر رہے ہیں۔ ایران روانگی سے قبل اسلام آباد ائیرپورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گیس پائپ لائن منصوبہ ان کے دورے میں سر فہرست ہے اور وہ اس کے علاوہ ایرانی رہنماؤوں سے تجارتی تعلقات بڑھانے کے حوالے سے بھی بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بھی اس منصوبے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو پاکستان، ایران اور بھارت کی معیشتوں کو اس منصوبے سے بہت فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس گیس منصوبے کے علاوہ ترکمانستان سے افغانستان کے راستے گیس پائپ لائن اور قطر سے سمندر کے اندر سے پائپ لائن پاکستان تک لانے کے حوالے سے بھی ان ممالک سے بات چل رہی ہے۔ شوکت عزیز کے مطابق وہ ایرانی حکام سے نئے زمینی اور ریل راستوں کو قائم کرنے کے بارے میں بھی بات کریں گے جس سے دونوں ممالک میں تجارتی رابطے بہت حد تک بڑھ سکیں گے۔ پاکستانی وزیر اعظم ایرانی صدر محمد خاتمی اور ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف سے بھی ملاقات کریں گے۔ شوکت عزیز کا گزشتہ برس وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد ایران کا پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔ شوکت عزیز پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ وہ ان دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ ایرانی رہنماؤوں سے بین الاقوامی صورتحال افغانستان اور عراق کے حوالے سے بھی بات کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||