’نٹور سنگھ گڑھے مردے نہ اکھاڑیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ کو ماضی بھلا کے مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے۔ بھارت کے نئے وزیر خارجہ نٹور سنگھ کے اس بیان پر کہ بھارت انیس سو بہتر کے شملہ معاہدہ کے تحت پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے مابین شملہ سمیت کئی معاہدے موجود ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کو بھول کر عوامی سطح پر ہونے والے حالیہ رابطوں کو آگے بڑھانا جائے اور کشمیر کے مسئلے کا ایک ایسا حل تلاش کا جائے جو خود کشمیریوں کے لئے بھی قابل قبول ہو۔ شیخ رشید نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام نے حالیہ دنوں میں ہونے والے امن مذاکرات سے بہت توقعات وابستہ کر لی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کے اس سلسلے کو اپنے انجام تک پہنچانا چاہیے۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بنیاد شملہ معاہدہ ہوگا۔ بھارت دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد بحال کرنے کے لئے کوششیں تیز کرے گا اور تمام مسائل بشمول کشمیر پر بات چیت کرنے کو تیار ہے۔ شملہ معاہدہ انیس سو بہتر میں اس وقت کے وزراء اعظم اندراگاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان ہوا تھا۔ اس معاہدہ میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک بیرونی مدد کے بغیر اپنے باہمی معاملات طے کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان یہ دلیل دیتے ہوئے امریکہ اور مغربی ممالک کو دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کے لئے کہتا رہا ہے کہ دونوں ممالک آپس میں اتفاق رائے نہیں کر سکے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دونوں ممالک کو تجارت، قونصل خانے کھولنے اور کھیلوں کے بہتر تعلقات کے لئے بات چیت کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت، ایران گیس پائپ لائن کو جو پاکستنان سے گزرتی ہے مکمل کرنے کی کو شش کرے گا کیونکہ اس سے نہ صرف بھارت بلکہ ایران اور پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||