BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 September, 2004, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر پر روڈ میپ موجود ہے‘

مشرف اورمن موہن سنگھ
واشنگٹن میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان اور ہندوستان کے پاس کشمیر اور دوسرے تنازعات کے حل کے لیے واضح روڈ میپ موجود ہے۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ نیویارک میں جنرل پرویز مشرف اور ہندوستانی وزیر اعظم جناب من موہن سنگھ نے اسی روڈ میپ کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ بات چیت کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پائی جانے والی گرمجوشی اور باہمی احترام کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔

آگرہ مذاکرات میں شریک ہونے والے ایک سرگرم سفارت کار کاکہنا ہے کہ وہ آگرہ میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں کبھی بھی پر امید نہ تھے لیکن مشرف من موہن ملاقات کے بارے میں وہ بہت مثبت خیالات رکھتے ہیں۔

ان کا خیال ہے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ہونے والی حالیہ پیش رفت پہلے سے کہیں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہے۔ ایک دوسرے سفارت کار کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان طریق ملاقات سے ہی یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ تاریخی ملاقات تھی۔

دونوں رہنماؤں نے چند منٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد اپنے اپنے وفود کو باہر بھیج دیا اور تنہائی میں ایک دوسرے سے ملاقات کی۔ سفارتی حلقوں میں اس طرح کی ون ٹو ون ملاقات کو بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور یہ افواہیں عام گردش کر رہی ہیں کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کشمیر کے تنازعہ کے حل کے لئے علاقہ جات کو تقسیم کرنے کی کسی ہندوستانی تجویز پر غور کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ٹائمز میگزین نے چند ہفتے پیشتر ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ہندوستان کشمیر کی علاقائی تقسیم کے لئے کوئی تجویز پیش کرنے والا ہے۔ ہندوستان کی حکومت نے اس خبر کی تردید کردی تھی لیکن واشنگٹن کے سفارتی اور صحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اطلاع ہندوستانی حکومت کے بہت ہی اعلی سطح سے فراہم کی گئی تھی جس کا مقصد پاکستان کو باخبر کرنا تھا۔

اطلاعات کے مطابق مذاکرات جاری رکھنے کے علاوہ کشمیر اور گیس پائپ لائن پر بھی بات چیت ہوئی۔ اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ میں نے دلی سے روانگی کے وقت کہا تھا کہ یہ (مشرف ملاقات) تو باہمی تعاون پر مضمون لکھنے والی بات ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں پختہ یقین ہے کہ یہ تاریخی دن ہے۔ ’ہم نے نئی شروعات کی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ مشکلات کے باوجود میں اور صدر مشرف دونوں ملکوں کی تاریخ کا ایک نیا باب لکھیں گے۔‘ اس سے پہلے جنرل مشرف نے متفقہ بیان اخباری نمائندوں کے سامنے پڑھا تھا۔

اس پہلو کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ملک کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کی۔ جنرل مشرف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ پہلی تقریر تھی جس میں کشمیر کی آزادی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

اسی طرح وزیر اعظم من موہن سنگھ نہ بھی پاکستان پر دہشت گردی کی معاونت کے اشارے نہیں کیے جیسا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کرتے رہے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں یہ ڈرامائی تبدیلی بغیر کسی وجہ کے نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد