BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 September, 2004, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نوکر شاہی سے ہوشیار‘

کیا نیویارک میں ہونے والے یہ مذاکرات تاریخ ساز ہوں گے؟
کیا نیویارک میں ہونے والے یہ مذاکرات تاریخ ساز ہوں گے؟
ہندوستان کے وزیراعظم من موہن سنگھ اور پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے نیو یارک میں اپنی حالیہ ملاقات کو، جو کوئی ایک گھنٹے جاری رہی، نہ صرف تسلی بخش بلکہ تاریخی بھی قرار دیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا ہے اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ملاقات دوستانہ ماحول میں ہوئی اور دونوں نے کھلے دل سے اپنی مجبوریوں اور اپنے مسائل کا ذکر کیا اور اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ ہر وہ اقدام کریں گے جس سے دونوں ملکوں میں اعتماد کی فضا کو فروغ دینے میں مدد ملے۔

میرے نزدیک دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات جس ماحول میں ہوئی اور اس کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا وہ ایک بڑی خوش آئیند بات ہے۔ تاہم یہ اندازہ لگانا کہ جو کچھ ان دونوں رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے یا اخبارات اور ابلاغ کے مختلف ذریعوں میں شائع ہوا ہے وہ محض سفارتی موشگافی ہے یا اس میں وہ پر خلوص بھی ہیں، نہ صرف مشکل ہے بلکہ قبل از وقت بھی۔

اس کا اندازہ تو اس وقت ہی لگایا جا سکے گا جب ان مفاہمتی اور مصالحتی تقریروں، اعلامیوں اور بیانات کو عملی شکل دی جائے گی۔ لیکن یہ بات انتہائی وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات سے، سرحد کے دونوں طرف، ان لوگوں کو یقینی بڑی خوشی ہوئی ہوگی جو دونوں ملکوں کی آپس کی 56 سالہ مخاصمتوں کو وقت اور اپنی اپنی توانائیوں کا زیاں سمجھتے ہیں اور دونوں کے درمیان دوستی اور تعاون کو ایک دوسرے کی ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لئے ناگزیر تصور کرتے ہیں۔

تاہم اب تک کے ان کامیاب مذاکرات کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ دونوں رہنماؤں کو اپنی اپنی نوکر شاہی سے بھی محتاط رہنا پڑے گا اس لئے کہ نوکر شاہی اگرچہ اپنی اپنی حکومتوں کی پالیسیوں کے تابع ہوتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کی بھی ذمہ داری اسی کو سونپی جاتی ہے اور دیکھا یہ گیا ہے کہ اس میں کبھی کبھی وہ، دانستہ یا نادانستہ طور پر، ایسے اڑنگے لگا دیتے ہیں جن سے مسئلے حل ہونے کے بجائے اور پیچیدہ ہوجاتے ہیں اور یہ صورتحال صرف برصغیر کے ملکوں میں ہی نہیں ہے، بلکہ دنیا کے ہر ملک کی نوکر شاہی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔

میں ذاتی طور پر اس کے لئے ان کو مورد الزام بھی نہیں ٹھہراتا اس لئے کہ ان کا ذہن ہی چونکہ منشیوں اور کلرکوں کا ہوتا ہے اس لئے وہ کسی بھی سمجھوتے یا اعلامیے پر عمل درآمد میں اس کی عبارت پر زیادہ زور دیتے ہیں اور اس کے پیچھے کارفرما جذبے کو نظر انداز کرجاتے ہیں۔

گزشتہ ستاون سال میں کئی بار ایسے مواقع آئے جب یہ محسوس ہونے لگا کہ اب دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہوجائیں گے لیکن بس پھر کہیں کچھ ایسے ہوگیا کہ ساری امیدوں پر پانی پھر گیا اور دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے منہ سے پھر بارود کی بو آنے لگی۔

اب بھی اگر کرید کی جائے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت میں اس پیش رفت سے غیرمطمئن کون لوگ ہیں، تو اندازہ ہوگا کہ ایسے بیشتر عناصر کا تعلق دونوں ملکوں کی نوکر شاہی سے ہے اور انہیں اپنی ترجمانی کے لئے ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جن کے مفادات کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

میں اس سلسلے میں جناب پرویز مشرف اور ہندوستان کے سابق وزیراعظم جناب واجپئی کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ دونوں کا تعلق اپنے اپنے ملکوں کے ایسے اداروں سے ہےجو مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے میں کچھ بہت زیادہ یقین نہیں رکھتے لیکن ان دونوں رہنماؤں نے اپے ان اداروں کے روایتی رویوں سے انحراف کرتے ہوئے اپنے عوام کی خواہشات اور امنگوں سے رہنمائی حاصل کی، جو ایک بڑی بات ہے۔

اور اگرچہ ’امن‘ کا لفظ ’جنگ‘ کے مقابلے میں اتنا ہی کمزور محسوس ہوتا ہے جیسے ’شکرے‘ کے مقابلے میں ’فاختہ‘ تاہم یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو ایک بار شروع ہوجائے تو پھر آگے ہی بڑھتا رہتا ہے اورکسی کے لئے بھی اس کا رخ موڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ ہندوستان کی’من موہن‘ حکومت بھی جو واجپئی حکومت کی بیشتر پالیسیوں پر نظر ثانی کر رہی ہے پاکستان سے متعلق پالیسی کو، من وعن، اپنانے پر مجبور ہے اور پاکستان میں بھی حکومت اگر کبھی بدلی تو اسے ہندوستان سے متعلق موجودہ حکومت کی پالیسی سے انحراف کرنے کے لئے کئی بار سوچنا پڑے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد