بھاری معاوضہ سب کیلئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے ضلع نارووال کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایس ایس پی طیب سعید پولیس پارٹی کی قیادت کرتے ہوۓ نواحی گاؤں ڈیڑھ فلیز پور میں تین یا چار ملزموں کو گرفتار کرنے پہنچے۔مقابلہ ہوا اور ایس ایس پی طیب سعید اس مقابلے میں ہلاک اور انکے ساتھ کے ایس ایچ او محمد بوٹا اور کانسٹیبل محمد صدیق شدید زخمی ہوۓ اور مئیو اسپتال لاہور میں زیرِ علاج ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی نے مرحوم پولیس آفیسر کے لئے قائدِ اعظم پولیس میڈل، اہلِ خانہ کے لیے پچاس لاکھ روپے، ایک مکان، سرکاری گاڑی، بچوں کی تعلیم اور شادی کے اخراجات اور بیوہ کے لیے ملازمت کا اعلان کیا ہے۔ جب تک نیا مکان نہیں بن جاتا طیب سعید کے اہلِ خانہ موجودہ سرکاری مکان میں ہی رہیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ مرحوم پولیس آفیسر موجودہ وزیرِ دفاع راؤ سکندر اقبال کے بھی عزیز تھے۔ پاکستان پولیس کی تاریخ میں دورانِ فرائض جاں بحق ہونے والے کسی بھی پولیس آفیسر کے لئے اب تک کا یہ سب سے بڑا مراعاتی پیکج بتایا جا رہا ہے۔ اس بات کو سراہنے کی ضرورت ہے کہ حکومت نے دورانِ فرائض جاں بحق ہونے والے پولیس آفیسر کے لئے اتنے فراخدلانہ پیکج کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اب اگر کوئی پولیس آفیسر اس طرح جاں بحق ہوتا ہے اور اسکے اہلِ خانہ کو اتنا معاوضہ نہیں ملتا تو پھر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ طیب سعید کے لئے وزیر اعلیٰ نے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اتنے بڑے مراعاتی پیکج کا کیوں اعلان کیا اور باقیوں کی موت میں ایسی کیا کمی رہ گئی تھی کہ انہیں ایک لاکھ سے دس لاکھ روپے تک معاوضہ دینے کی روایت ہے۔ مثلاً طیب سعید کے ہمراہ جو دو دیگر پولیس آفیسر شدید زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق انکے لئے محض پانچ پانچ لاکھ روپے معاوضے کا اعلان ہوا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کیا ہی اچھا ہو اگر ان لوگوں کے خاندانوں کے لئے بھی معاوضے کی روایت پڑ جائے جو تھانوں اور جیل میں دورانِ تفتیش ہلاک ہوجاتے ہیں اور ایسی ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو ملازمت سے عارضی معطلی کے علاوہ کوئی سزا نہیں ملتی۔ کسی پولیس والے کا دورانِ فرائض جان دینا یا کسی شخص کا پولیس تشدد سے ہلاک ہوجانا۔ موت دونوں کے خاندانوں سے یکساں سلوک کرتی ہے۔ لیکن اس طرح کی موت میں بھی امتیاز برتنا نہ تو بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کے ذیل میں اچھا ہے اور نہ ہی سرکاری محکموں کے مورال کے لئے صحت مند۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||