BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 August, 2004, 06:24 GMT 11:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فہم فراست کا کٹھن امتحان

شوکت عزیز
جناب شوکت عزیز وزیر اعظم تو پہلے ہی نامزد ہوگئے تھےاب اللہ کے فضل سے قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوگئے ہیں۔ جو کچھ رہ گیا ہے اس کی اہمیت بعض چھوٹی موٹی رسومات سے زیادہ نہیں ہے، جیسے بعض شادیوں میں قاضی محض نکاح نامہ بھرنے کے لئے آتا ہے، ایجاب و قبول پہلے ہی ہوچکا ہوتا ہے۔

اس طرح کے مواقع تاریخ میں شاذونادر ہی کسی کو ملتے ہیں لیکن بعض لوگ دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ہر طرح کے مواقع مل جاتے ہیں، شوکت صاحب ماشااللہ ان ہی لوگوں میں شامل ہیں۔

ویسے بھی پاکستان میں وزراء خزانہ کے وزیراعظم اور صدر بننے کی روایت بہت پرانی ہے۔ مثلاً پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان مرحوم ہندوستان کی عبوری حکومت میں وزیر خزانہ تھے۔ ان کی حکومت کے وزیر خزانہ غلام محمد صاحب دو ہاتھ اور آگے نکل گئے اور گورنر جنرل کے عہدے پر براجمان ہوئے۔ نہ صرف براجمان ہوئے بلکہ ایسی بناء ڈال گئے کہ آج تک یاد آتے ہیں۔

چیلنج
 جناب شوکت نے موجودہ حالات میں وزیر اعظم کا عہدہ قبول کر کے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے
چودھری محمد علی نے بھی اسی وزارت سے ترقی حاصل کرکے وزارت عظمیٰ سنبھالی تھی۔ اور تو اور اپنے ممتاز محمد خان دولتانہ بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے صوبے کی ممدوٹ حکومت میں وزیر خزانہ تھے اور جب ریڈیو پاکستان میں نیوز ریڈر خبریں پڑھتے ہوئے ان کے عہدے اور نام کا ذکر کرتا تو یوں لگتا جیسے کسی غزل کا مقطع پڑھ رہا ہو۔

بہر حال تو عرض یہ کر رہا تھا کہ جناب شوکت عزیز کا وزیر اعظم بن جا نا کوئی بہت تعجب کی بات نہیں۔ صرف فرق یہ کہ یہ لوگ وزیر خزانہ بننے سے پہلے بھی سیاست میں بڑی جانی پہچانی شخصیت تصور کئے جاتے تھے جب کہ شوکت صاحب کا نام ہی اس وقت سننے میں آیا جب وہ وزارت خزانہ سنبھالنے کے لئے امریکہ سے بلائے گئے۔

جمالی صاحب کی وزیر اعظم کے عہدے پر تقرری سے پہلے اور ان کی برطرفی کے بعد بھی بعض حلقوں میں جناب خورشید قصوری صاحب کا نام بھی اس عہدے کے لئے لیاجاتا رہا ہے لیکن ’جسے پیا چاہے وہی سہاگن‘ جناب پرویز مشرف کی حمایت بہر حال شوکت عزیز کو ہی حاصل تھی اس لئے سب ٹاپتے رہ گئے۔

الزام
 ان پر ایک الزام عائد کیا جاتا رہا ہے اور وہ یہ کہ وہ امریکہ کے آدمی ہیں اور آج کل پاکستانی عوام کے نزدیک یہ ایک گالی ہے
اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب شوکت نے موجودہ حالات میں وزیر اعظم کا عہدہ قبول کر کے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے اور یہ یقینی بڑی قربانی ہے جس کا احترام کیا جانا چاہئے اور ہر محب وطن شہری کو ان کی کامیابی کی دعا بھی کرنی چاہئے اس لئے کہ یہ ابتداء عشق ہے دوسرے مراحل بھی طے کرنے ہیں جو اس سے بہت زیادہ مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔

پہلا مشکل مرحلہ تو کابینہ کی تشکیل ہے ۔ انہیں ایسے لوگ تلاش کرنے پڑیں گے جن کا ماضی اگر بے داغ نہ بھی ہو تو اتنا داغدار بھی نہ ہو کہ ان کے پاس بیٹھنے سے ان کا اپنا حال اور مستقبل دونوں داغدار ہو جائے۔

پاکستان میں ہر آدمی کی نظر اس پر لگی ہوئی ہے کہ وہ اس مرحلے سے کیسے گزرتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی اقتدار سنبھالا تھا تو بے داغ لوگوں کو حکومت میں شامل کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن جب حکومت بنائی تو وہی ڈھاک کے تین پاتھ۔

اب یا تو کوئی بے داغ آدمی حکومت میں جانا پسند نہیں کرتا یا پھر اسے خطرہ ہوتا ہے کہ حکومت میں شامل ہوتے ہیں داغدار ہوجائے گا۔ یا پھر یہ ہے کہ داغدار لوگوں کے بغیر حکومت بن سکتی ہے اور نہ چل سکتی ہے۔

مشکلات
 بعض ایسے فیصلے بھی کرنے پڑیں گے جس سے حکمراں ٹولے میں ان کے دوستوں کی تعداد کم ہو سکتی ہے
دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ شوکت عزیز کا ماضی یوں تو بے داغ بتایا جاتا ہے لیکن ان پر ایک الزام عائد کیا جاتا رہا ہے اور وہ یہ کہ وہ امریکہ کے آدمی ہیں اور آج کل پاکستانی عوام کے نزدیک یہ ایک گالی ہے۔

پرویز مشرف صاحب جب اقتدار میں آئے تھے تو لوگوں نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی تھی اور ان سے بڑی امیدیں بھی وابستہ کرلیں تھیں لیکن برا ہو11 ستمبر کا، امریکہ کے بھرے میں ایسے آئے کہ اب سڑک پر بھی نکلتے ہیں تو ڈر ہی لگتا ہے۔

جناب شوکت عزیز اگر اس صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں فوراً سے پیشتر یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ان کی حکومت امریکہ سے ہدایات نہیں لے گی۔

پھرصوبوں کے حقوق کا بھی مسئلہ ہے جو ایک بار پھر شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ بالخصوص یہ تاثر دور کرنے کی شدید اور فوری ضرورت ہے کہ مرکز کے نزدیک پنجاب کے مفادات کو جو اہمیت حاصل ہے وہ دوسرے صوبوں کو نہیں ہے۔

چلتے چلتے انہیں خبردار بھی کرنا چاہتا ہوں کہ اگروہ حقیقی معنوں میں وہی کچھ کرنا چاہتے ہیں جو وہ کہتے رہے ہیں یعنی ملک کی معیشت کی بہتری، غربت کا خاتمہ ، جمہوریت اور معاشرے میں اعتدال پسندی کا فروغ اور انسانی حقوق کا تحفظ وغیرہ تو انہوں نے اپنے سر پر اپنی بساط سے زیادہ بوجھ اٹھا لیا ہے۔ پاکستان میں وزیر اعظم جتنا بھی مضبوط ہو کمزور نکلتا ہے اور پھر وہ عمر کتنی ہی زیادہ مانگ کے لایا ہو چار دن سے زیادہ دراز نہیں ہوتی۔انہیں اپنے ارادوں اور آرزؤں کی تکمیل کے لئے فہم وفراست کے ساتھ ساتھ ، جس کے لئے وہ مشہور ہیں، صبر وتحمل کا بھی مظاہرہ کرنا پڑے گا اور بعض ایسے فیصلے بھی کرنے پڑیں گے جس سے حکمراں ٹولے میں ان کے دوستوں کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔

وہ کیا اس کے متحل ہو سکتے ہیں ؟ اگر نہیں تو وزیراعظم بننے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اب بھی گنجائش موجود ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد