زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کر رہی ہے اور اقتدار میں آنے سے پانچ سال پہلے ملک کی جو حالت تھی اس کے مقابلے میں اب ہزار گنا بہتر ہے۔ انہوں نے مذ ہبی انتہا پسندی کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کی ہے اور ایک اور بات جو صدر مشرف نے کہی اور جو میری نظر میں بڑی اہمیت کی حامل ہے وہ یہ کہ وہ کسی کے دباؤ میں آنے والےنہیں ہیں اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ ملکی مفاد کے پیش نظر کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف صاحب ایک فوجی صدر ہیں اور کسی کو بھی جو جمہوریت میں یقین رکھتا ہے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک فوجی صدر کی حمایت کرے لیکن میں ان کی ایک خوبی کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا اور وہ یہ کہ وہ صاف گو ہیں اور لگی لپٹی میں یقین نہیں رکھتے۔ جو سوچتے سمجھتے ہیں، وہ کہہ بھی دیتے ہیں۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کے پاکستان نے سینکڑوں افراد کو، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گرد ہیں، گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کردیا ہے۔ پھر جنوبی وزیرستان میں مبینہ دہشت گردوں کے خلاف کئی بار کارروائی کامیابی سے مکمل ہو کر دوبارہ شروع ہو چکی ہے اگر ان کے خیال میں یہ ساری باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ان کی پالیسی کامیاب ہے تو مجھے ان کے اس دعوے پر لبیک کہنے میں کوئی عذر نہیں۔ لیکن مجھے کبھی کبھی اس دعوے میں صدر بش اور وزیراعظم ٹانی بلئیر کے اس دعوے کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے کہ صدام حسین کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے عراق میں حالات بہتر ہوگئے ہیں۔
اگر ان کے اس دعوے کا مطلب یہی ہے جو میں نے سمجھا ہےتو پھر میرا خیال ہے کہ اس دعوے کی بنیاد غالباً وہ محکمہ جاتی رپورٹیں ہیں جن میں ’سب اچھا ہے‘ کی گردان اس تواتر سے لگائی جاتی ہے کہ سننے اور پڑھنے والے کو یقین آجائے کہ واقعی سب اچھا ہے۔ صدر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مذہبی انتہاء پسندی کے وہ مخالف ہیں اور اس کے خلاف کاروائی کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک مذہبی انتہاء پسندی کوئی چیز نہیں ہے، مذہبی تنگ نظری ایک بڑی لعنت ہے جو جب کسی معاشرے میں در آتی ہے تو اس کو کھوکلا کرکے چھوڑتی ہے۔
صدر نے عراق فوج بھیجنے اور نہ بھیجنے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی کے دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں۔ اگر انکا اشارہ بیرونی دباؤ کی طرف ہے تو اس کی قدر کی جانی چاہئے، اس لئے کہ اس ملک کا یہ بڑا المیہ رہا ہے کہ اس کے حکمرانوں نے اپنے عوام کی تو کبھی کوئی بات نہیں سنی بلکہ ان کے مطالبوں اور خواہشات کو بڑی بیدردی سے کچلنے سے بھی دریغ نہیں کیا لیکن بیرونی دباؤ کے سامنے ایسے جھکے کہ ’نہ من تیرا نہ تن۔‘ لیکن اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عوام اور اپنی حزب اختلاف اور اپنے سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں کے دباؤ میں بھی نہیں آئیں گے تو یہ بڑی غلطی ہوگی اور بقول شخصے سیاسی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ وہ بھلے ہر معاملے کے بارے میں پالیسیاں بنائیں اور حکمت عملی وضع کریں لیکن ’زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو‘ کے مصداق رہنمائی اپنے عوام کی خواہشات سے حاصل کریں کہ اس سے نہ صرف عوام میں اپنی اہمیت اور ذمہ داریوں کا احساس فروغ پاتا ہے بلکہ خود سربراہ مملکت یا سربراہ حکومت کا وقار بھی بلند ہوتا ہے، ملک کے اندر بھی اور باہر بھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||