BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 August, 2004, 04:00 GMT 09:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو

صدر مشرف
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کر رہی ہے اور اقتدار میں آنے سے پانچ سال پہلے ملک کی جو حالت تھی اس کے مقابلے میں اب ہزار گنا بہتر ہے۔ انہوں نے مذ ہبی انتہا پسندی کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کی ہے اور ایک اور بات جو صدر مشرف نے کہی اور جو میری نظر میں بڑی اہمیت کی حامل ہے وہ یہ کہ وہ کسی کے دباؤ میں آنے والےنہیں ہیں اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ ملکی مفاد کے پیش نظر کر رہے ہیں۔

پرویز مشرف صاحب ایک فوجی صدر ہیں اور کسی کو بھی جو جمہوریت میں یقین رکھتا ہے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایک فوجی صدر کی حمایت کرے لیکن میں ان کی ایک خوبی کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا اور وہ یہ کہ وہ صاف گو ہیں اور لگی لپٹی میں یقین نہیں رکھتے۔ جو سوچتے سمجھتے ہیں، وہ کہہ بھی دیتے ہیں۔

امریکی سینیٹر کے ساتھ
ان کا یہ دعویٰ کہ دہشت گردی کے خلاف ان کی پالیسی کامیاب ہےاس حد تک یقینی صحیح ہے کہ وہ دو قاتلانہ حملوں سے صحیح سلامت بچ نکلے اور نامزد وزیر اعظم جناب شوکت عزیز بھی ایک حملے میں بال بال بچ گئے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کے پاکستان نے سینکڑوں افراد کو، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گرد ہیں، گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کردیا ہے۔ پھر جنوبی وزیرستان میں مبینہ دہشت گردوں کے خلاف کئی بار کارروائی کامیابی سے مکمل ہو کر دوبارہ شروع ہو چکی ہے اگر ان کے خیال میں یہ ساری باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ان کی پالیسی کامیاب ہے تو مجھے ان کے اس دعوے پر لبیک کہنے میں کوئی عذر نہیں۔

لیکن مجھے کبھی کبھی اس دعوے میں صدر بش اور وزیراعظم ٹانی بلئیر کے اس دعوے کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے کہ صدام حسین کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے عراق میں حالات بہتر ہوگئے ہیں۔

صدر مشرف اور کولن پاول
انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ملک کی جو صورتحال تھی اس کے مقابلے میں آج حالات ہزار گنا بہتر ہیں۔ ان کے اس دعوے کا مطلب جو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی گزشتہ پانچ سال میں ہزار گنا کم ہوگئی ہے، بے روزگاری میں ہزار گنا کمی آئی ہے، خواندگی کی شرح ہزار گنا بڑھ گئی ہے، جرائم یعنی چوری ، ڈکیتی ، آبرو ریزی ، اجتماعی آبروریزی ،کارو کاری اور قتل وغیرہ کی وارداتوں میں ہزار گنا کمی آئی ہے۔

اگر ان کے اس دعوے کا مطلب یہی ہے جو میں نے سمجھا ہےتو پھر میرا خیال ہے کہ اس دعوے کی بنیاد غالباً وہ محکمہ جاتی رپورٹیں ہیں جن میں ’سب اچھا ہے‘ کی گردان اس تواتر سے لگائی جاتی ہے کہ سننے اور پڑھنے والے کو یقین آجائے کہ واقعی سب اچھا ہے۔

صدر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مذہبی انتہاء پسندی کے وہ مخالف ہیں اور اس کے خلاف کاروائی کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک مذہبی انتہاء پسندی کوئی چیز نہیں ہے، مذہبی تنگ نظری ایک بڑی لعنت ہے جو جب کسی معاشرے میں در آتی ہے تو اس کو کھوکلا کرکے چھوڑتی ہے۔

صدر مشرف
مجھے یہ پاکستان میں کم ہوتی نہیں دکھائی دیتی لیکن اگر صدر مشرف نے اس کے تدارک کا بیڑا اٹھایا ہے تو یہ بڑی بات ہے اور مجھے یقین ہے کہ صدر مشرف کی اس کوشش کو ان لوگوں میں یقینی پذیرائی حاصل ہوگی جو اعلیٰ انسانی قدروں کو کسی معاشرے کی ترقی کے لئے ایک لازمہ تصور کرتے ہیں اور میر ے خیال میں ایسے لوگوں کی تعداد پاکستان میں یقینی ان لوگوں سے زیادہ ہے جو مذہبی عصبیتوں اور نفرتوں کے سہارے زندہ رہنے کہ اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ اگردوسروں سے نفرت کرنے سے انہیں روک دیا جائے تو وہ اپنے آپ سے نفرت کرنے لگیں گےاور شاید زندہ رہنے پر خودکشی کو ترجیح دیں گے۔

صدر نے عراق فوج بھیجنے اور نہ بھیجنے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی کے دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں۔ اگر انکا اشارہ بیرونی دباؤ کی طرف ہے تو اس کی قدر کی جانی چاہئے، اس لئے کہ اس ملک کا یہ بڑا المیہ رہا ہے کہ اس کے حکمرانوں نے اپنے عوام کی تو کبھی کوئی بات نہیں سنی بلکہ ان کے مطالبوں اور خواہشات کو بڑی بیدردی سے کچلنے سے بھی دریغ نہیں کیا لیکن بیرونی دباؤ کے سامنے ایسے جھکے کہ ’نہ من تیرا نہ تن۔‘

لیکن اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عوام اور اپنی حزب اختلاف اور اپنے سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں کے دباؤ میں بھی نہیں آئیں گے تو یہ بڑی غلطی ہوگی اور بقول شخصے سیاسی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

وہ بھلے ہر معاملے کے بارے میں پالیسیاں بنائیں اور حکمت عملی وضع کریں لیکن ’زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو‘ کے مصداق رہنمائی اپنے عوام کی خواہشات سے حاصل کریں کہ اس سے نہ صرف عوام میں اپنی اہمیت اور ذمہ داریوں کا احساس فروغ پاتا ہے بلکہ خود سربراہ مملکت یا سربراہ حکومت کا وقار بھی بلند ہوتا ہے، ملک کے اندر بھی اور باہر بھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد