خونِ خاک نشیناں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سنیٹ کی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی کہہ دیا کہ جن بنیادوں پر عراق پر حملہ کیا گیا تھا وہ سب غلط نکلیں اور اگر یہ باتیں جو اب ہمارے علم میں آئی ہیں اگر اس وقت ہمارے علم میں آجاتیں تو ہم جنگ کے حق میں فیصلہ نہیں دیتے۔ برطانوی وزیراعظم جناب ٹونی بلئیر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ عراق میں وسیع تباہی والے ہتھیار نہیں ملے اور اب شاید نہ ملیں۔ بہر حال ممکن ہے امریکی سنیٹروں اور جناب بلیئر کو ان کی حکومت کی انٹیلیجنس سروس نے گمراہ کیا ہو لیکن امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے ہر ملک کے عوام تو چیخ چیخ کر جناب بش اور جناب بلیئر اور ان کے دوستوں کو بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ مت کرو یہ غلط ہے لیکن کسی کو ، بہر سماعت وقت تھا نہ دماغ ، وہی سنتے رہے جو سننا چاہتے تھے اور وہی دیکھتے رہے جو دیکھنا چاہتے تھے۔ تاہم اس عرصے میں جو اچھی بات ہوئی وہ یہ کہ عراق کی عبوری حکومت کے وزیراعظم ایاد علاوی کو شورش پسندوں سے نمٹنے کے لئے وسیع اختیارات دیدیےگئے ہیں۔ وہ اب ملک میں ہنگامی حالات نا نافذ کر سکتے ہیں اور پورے ملک میں کرفیو لگا سکتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں جو سرحد کے قریب ہوں وہاں ضرورت محسوس کرنے پر فوجی گورنر بھی مقرر کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے اثاثے ضبط کر سکتے ہیں جن کے بارے میں انہیں شک ہو کہ وہ شورش پسند ہیں یا شورش پسندوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔
آپ یقین مانیں عراق کے امریکی ایڈمنسٹریٹر پال بریمر 28 جون کو یعنی مقررہ تاریخ سے دو دن پہلے ہی سارے اختیارا ت عبوری حکومت کے حوالے کر کے وطن واپس چلےگئے تھے لیکن مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ عراقی حکومت کو خود مختاری منتقل کردی گئی ہے۔ جب سے میں نے یہ سنا ہے کہ وزیراعظم ایاد علاوی کو مذکورہ اختیارات حاصل ہوگئے ہیں مجھے یقین آگیا ہے کہ اب عراق حقیقی معنوں میں آزاد ہوگیا ہے۔ اس لئے کہ انسان دوستی ، جود و سخا اور رحم و کرم کے لئے اختیارات حاصل کرنےکی ضرورت نہیں پڑتی اس کا اختیار ہر ایک کو قدرت کی طرف سے حاصل رہتا ہے کہ وہ جب چاہے اور جہاں چاہے ان پر عمل کر سکتا ہے، لیکن کرفیو لگانے، مارشل لا ً نافذ کرنے اور مخالفین کے اثاثے ضبط کرنے کے لئے اختیارات حاصل کرنے پڑتے ہیں۔ صدام حسین نے یہ اختیارت 1980 میں اپنے پیش رو احمد حسن البکر سے حاصل کیے تھے، ایاد علاوی صاحب کو اتحادیوں نے دیدیئے۔ اور جب میں یہ سوچتا ہوں کہ عراق کے عبوری وزیراعظم کو یہ اختیارت دلانے کے لئے امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے کیا قربانیاں دی ہیں تو یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانا اور ایاد علاوی کو اقتدار میں لانا کیا اتنا ضروری تھا۔ غور فرمائیے اخباری اطلاعات کے مطابق عراق پر حملے کے بعد سے اب تک اس مہم میں امریکہ ایک کھرب اور 26ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔ جو اگر امریکی آبادی پر پھیلایا جائے تو فی خاندان کوئی 3400 ڈالر لاگت آئیگی۔ اتنی رقم امریکہ کے ہر مزدور خاندان کو دیدی جاتی تو وہ یہ سوچے بغیر کہ کل کیا ہوگا اپنےبال بچوں سمیت چند ہفتوں کی چھٹی منا سکتے تھے۔ پھر یہ بھی غور کریں کہ اس مہم میں اب تک اخباری اطلاعات کے مطابق کوئی گیارہ ہزار عراقی اور تقریباً ایک ہزار اتحادی مارے جا چکے ہیں اور جب یہ خیال آتا ہے کہ اتنی ساری ہلاکتیں کتنی زندگیوں کو دکھی بنا گئی ہوں گی تو ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے اور ایاد علاوی صاحب کو اقتدار میں لانے کے لئے اتنی ساری جانوں کی تلفی مناسب تھی؟ صدر بش اور وزیراعظم بلئیر تو کہتے ہیں کہ مناسب تھی پتہ نہیں وہ مائیں کیا کہتی ہیں جن کے یہ بچے تھے یا وہ عورتیں کیا کہتی ہیں جنہوں نے اپنے خوابوں میں ان کو بسا رکھا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں یہ دریافت کرنے کا تو حق ہے کہ ’جناب آپ نے جنگ تو وسیع تباہی والے ہتھیاروں کی بازیابی کے لئے شروع کی تھی ۔ وہ تو ملے نہیں، نہ صرف ملے نہیں بلکہ یہ بھی معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں جو اطلاعات آپ کو فراہم کی گئی تھیں وہ بھی سب غلط تھیں۔ اب یہ تو ہم جانتے ہیں کہ آپ ہمارے پیاروں کو مروا تو سکتے ہیں انہیں واپس زندہ نہیں کر سکتے، لیکن اپنی اس غلطی کی معافی تو مانگ لیجئے تاکہ ہمیں یہ یقین ہوجائے کہ آپ انسان ہیں۔‘ اب مشکل یہ ہے کہ صدر بش اگر صرف جارج بش ہوتے تو ممکن ہے معافی مانگ لیتے وہ صدر بش ہیں اور بقول شخصے طاقت انسان کو اخلاقی اعتبار سے بہت کمزور کر دیتی ہے ، اس کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہو تو اس کا برسرعام اظہار کرتے ہوئے ڈرنے لگتا ہے کہ کہیں اس کو اس کی کمزوری پر محمول نہ کیا جائے۔ اس لئے صدر بش اور ان کے ساتھیوں سے اس غلطی پر معافی کی توقع کرنا ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ بس یہ سمجھ لیجئے کہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||