BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 June, 2004, 15:24 GMT 20:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باہر کے اتحادی کی خوشی اور قیمت

شیخ رشید
شیخ رشید کا کہنا ہے کہ امریکی اتحادی کا مرتبہ حاصل کرنا جنرل مشرف کی کامیاب خارجہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے
امریکہ نے پاکستان کو معاہدہ شمالی اوقیانوس سے باہر کے اتحادی کا درجہ دیدیا ہے جو پاکستانی حکمرانوں کے مطابق ان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا وقار بلند ہوگا اور امریکہ سے دفاعی آلات اور اسلحہ کے حصول میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی اور پاکستان کی افواج کو جدید خطوط پر ترقی دینے میں مدد ملے گی۔

بعض پاکستانی ماہرین نے یہ بھی مژدہ سنایا ہے کہ پاکستان اپنی کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت اب امریکہ کے ان دوستوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جن میں ارجنٹینا ،آسٹریلیا ،بحرین ،مصر ،اسرائیل ،جاپان ،اردن ، کویت ، مراکش ، نیوزی لینڈ ،فلپائن ،جنوبی کوریا اور تھائی لینڈ وغیرہ شامل ہیں۔

میں نے کبھی ایک لطیفہ پڑھا تھا، جو کچھ یوں تھا کہ کسی فوجی پر فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ قائم ہوا اور اس کی سماعت کے لیے فوجی عدالت تشکیل دی گئی جسے کورٹ مارشل کہتے ہیں۔ اس فوجی نے اپنے والدین کو اس روح فرسا خبر سے آگاہ کرنے کے لئے تار دیا جس کی انگریزی عبارت کا لفظی ترجمعہ یہ بنتا تھا ’میں کورٹ مارشل ہوگیا ہوں۔‘

اس فوجی کے والدین بچارے ان پڑھ دیہاتی تھے۔ ان کو تار کا جب یہ ترجمہ سنایا گیا کہ بیٹا کورٹ مارشل ہوگیا ہے تو ان کی باچھیں کھل گئیں اور انہوں نے جوابی خط میں بیٹے کی اس ترقی پر مبارک دیتے ہوئے لکھا ’بیٹا تمہارا تار پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ تم کورٹ مارشل ہوگئے ہو، اللہ کا کرم شامل حال رہا تو تم جلد ہی فیلڈ مارشل ہوجاؤ گے۔‘

میں بھی اپنے آپ کو بین الاقوامی تعلقات اور کامیاب اور ناکام خارجہ پالیسیوں کی نزاکتوں سے اتنا ہی واقف تصور کرتاہوں جتنا اس فوجی کے والدین فوج کے معاملات سے تھے۔ چنانچہ اس خبر کو سنتے ہی کہ امریکہ نے پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کے نتیجے میں اسے نیٹو سے باہر کے اتحادی کا درجہ دیدیا ہے میری بھی باچھیں کھل گئیں اور دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ جب باہر کا اتحادی بن گیا ہے تو اب اندر کا بھی بن جائے لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلقات نیٹو سے باہر ہوں یا اندر ان کی نوعیت کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ خود آپ میں کتنا دم خم ہے۔

آپ اگر باہر کے اتحادیوں کی فہرست کا جائزہ لیں تو ان کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ یعنی بعض وہ ہیں جو اپنے مفادات کی خاطر امریکہ کے اتحادی ہیں اور بعض وہ ہیں جن کو امریکہ نے اپنے مفادات کے لیےاتحادی بنا رکھے ہیں۔

مثلاً آسٹریلیا اور جاپان جو امریکی اتحادی اسی حدتک ہیں جس حد تک ان کو امریکہ سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ امریکہ کے نیٹو سے باہر کے دوستوں میں ایک اسرائیل بھی ہے۔ جو دوستی کے اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں اگر یہ کہا جائے کہ اسرائیل امریکہ کی اکیانویں ریاست ہے تو یہ بہت زیادہ غلط نہیں ہوگا۔

وانا
پاکستانی فوج جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن میں مصروف ہے

لیکن اس فہرست میں فلپائن اور ارجنٹائین اور تھائی لینڈ اور مصر اور کویت اور بحرین وغیرہ بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے ارباب ِحل وعقد نے یہ تو بتادیا کہ پاکستان کو نیٹو کے باہر کے اتحادی کا درجہ مل گیا ہے لیکن یہ نہیں بتاتے یہ کون سا درجہ ہے ۔
ظاہر ہے آسٹریلیا اور جاپان کا درجہ تو نہیں ملے گا اس لیے کہ ان ملکوں کی معیشت اتنی مضبوط ہے کہ وہ امریکہ سے امداد لینا تو دور کی بات ہے اگر ضرورت پڑے تو خود امریکہ کو کھلا پلا سکتے ہیں۔

اب رہ گیا اسرائیل تو ظاہر ہے پاکستان کے حکمراں امریکہ کی باونویں ریاست بننے پر شائد تیار نہ ہوں اور اگر وہ ہو بھی جائیں تو پاکستان کے عوام کو آمادہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

ایسی صورت میں نیٹو سے باہر کے اتحادی کی حیثیت سے پاکستان کے لیے ایک ہی کردار رہ جاتا ہے اور وہ ہے جو فلپائین، مصر، کویت، بحرین وغیرہ ادا کر رہے۔ یعنی یہ کہ ہم جو کہیں وہ سنئے اور اس پر امنا صدقنا کہیے۔ یہ کام پاکستان کے حکمراں بہت دنوں سے کرتے چلے آرہے ہیں اس کے لیے نیٹو سے باہر کا اتحادی بنانے کی کیا ضرورت تھی۔

پاکستانی حکمرانوں نے اپنی اس ”عظیم ” کامیابی کے ایک اور بڑے فائدے کا ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ۔ اب پاکستان امریکہ سے اسلحہ خرید سکے گا۔میری ناقص رائے میں یہ تو کوئی ایسے فائدے کی بات نہیں ہے اور میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ پاکستان کو اسلحہ خریدنے کی ضرورت ہی کیا ہے وہ جوہری بم پہلے بنا چکا ہے اب امریکہ اس کو اس سے بھی زیادہ مہلک اسلحہ دینے سے تو رہا۔

پھر پاکستان کی دشمنی بھی اب کسی سے نہیں ہے۔ہندوستان سے تعلقات کچھ خراب تھے تو اب رو بصحت ہیں۔ باقی کہیں کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے ، چین سے دیرینہ دوستی ہے۔ ایران سے دوستی ہے افغانستان کی ذمہ داری امریکہ نے اٹھا رکھی ہے۔ اب ایک قبائلی علاقہ رہ گیا ہے تو یہ بھی کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کے لئے امریکہ سے اسلحہ خریدنے کی ضرورت پیش آئے۔

iraq
کیا پاکستانی فوجی ان فوجیوں کی جگہ لینے کے لیے تیار ہو جائیں گے

ان کو صرف یہ یقین دلا کر بھی خوش کیا جاسکتا ہے کہ آپ پاکستان کے شہری ہیں اور آپ کے وہی حقوق ہیں جو پاکستان کے تمام دوسرے شہریوں کے ہیں۔

اب رہ گیا عراق تو برطانیہ کے سوا نیٹو کے اندر کے اتحادیوں نے عراق سے متعلق امریکہ کو ٹکا سا جواب دیدیا ہے۔ ممکن ہے امریکہ اپنے نیٹو سے باہر کے اتحادیوں میں اسی مقصد کے لیے اضافہ کر رہا ہو کہ جو کام اندر والے کرنے پر تیار نہیں ہورہے ہیں وہ باہر والوں سے کرایا جائے۔

پاکستانی حکمرانوں کواپنی کامیاب خارجہ پالیسی کے نتیجے میں امریکہ کی اس درخواست کے لیے تیار رہنا چاہئے کہ ’اگر جنوبی وزیرستان سے فرصت ملے تو عراق کی جانب بھی توجہ فرمائیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد