امریکی فوجی: ظالم یا جنسی بیمار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ ہفتہ کچھ ایسا گزرا ہے کہ اپنے انسان ہونے پر اپنے آپ سےشرم محسوس ہونے لگی ہے ، میں ان لوگوں میں ہوں جو اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھتے ہیں اور اقبال کی طرح اللہ سے یہ کہتے ہوئے بھی نہیں گھبراتے کہ ’تو شب آفریدی، چراغ آفریدم‘ لیکن جب ایسے واقعات پیش آتے ہیں جن میں انسان ، انسان کم اور درندہ زیادہ دکھائی دے تو یوں لگتا ہے کہ علم و آگہی کے جتنے بھی چراغ روشن کیے جائیں ظلم وزیادتی اور انسانی کمینگیوں کے اندھیروں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ میں نمرود ، فرعون اور ہامان وغیرہ کے قصے بچپن سے سنتا اور پڑھتا آرہا ہوں لیکن اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہر دور میں یہ بد روحیں پیدا ہوتی رہتی ہیں اور اب بھی اس دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں، صرف فرق یہ ہوا ہے کہ پہلے ہر فرعون کے لئے کوئی موسیٰ آ جاتا تھا لیکن اب وہ سلسلہ بھی بند ہوگیا ہے۔ اب آپ غور کریں کہ فرعون نے محض نجومیوں کے کہنے پر کہ ، اب جو بچہ پیدا ہوگا وہ تیرے زوال کا سبب بنے گا ، یہ فیصلہ کرلیا کہ اس مدت میں جتنے بچے پیدا ہوئے ہیں ان سب کو ہلاک کردیا جائے اور ہلاکت کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک حضرت موسیٰ کو اپنی اصلیت کا علم نہیں ہوگیا۔
یہی کچھ فلسطین میں ہورہا ہے کہ اسرائیلی جاسوسوں نے جناب شیرون کو اطلاع دیدی ہے کہ رفاہ میں ایسی سرنگیں ہیں جو غزہ اور مصر کو ملادیتی ہیں اور فلسطینی وہاں سے اسلحہ اسمگل کر کے لارہے ہیں اور شیرون صاحب نے حکم دیدیا کے ان سرنگوں کا پتہ چلانے کے لئے جتنے مکان دل چاہے ڈھا دو اور جو اپنے اور اپنے بچوں کی دربدری کی دہائی دے اس کی تواضع میزائیل اور گولے بارود سے کرو تاکہ اس کو رحم کی بھیک مانگنے کی بھی ہمت نہ ہو۔ یہی کچھ عراق میں ہوا، میں یہ کسی قیمت پر بھی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ صدر بش اور جناب ٹونی بلئیر نے محض اپنی تفریح طبع کے لئے عراق میں فوجیں اتاری تھیں۔ وہ بھی یقینی احمد چلابی جیسے لوگوں اور سی آئی اے وغیرہ کے کہنے میں آگئے کہ صدام کے پاس وسیع تباہی والے ہتھیار ہیں اور مزید بنا بھی رہا ہے اور اگر اب اس کا قلع قمع نہیں کیا گیا تو یہ امریکہ اور برطانیہ کے وجود کے لئے خطرہ بن جائے گا ۔، ظاہر ہے یہ سنے کے بعد کون حملہ نہیں کرے گا۔ یہاں تک تو بات بھی سمجھ میں آتی ہے ۔ اس لئے کہ کسی ملک یا فرد کو اگر اپنا وجود خطرے میں نظر آئے تو اسے ،اگر اس میں سکت ہے تو ،اپنی حفاظت کے لئے مناسب اقدامات کرنے چاہیں لیکن ایک اچھا مدبر یا جنرل، اس کے بعد کی بھی منصوبہ بندی کر لیتا ہے کہ جب خطرہ ٹل جائے گا تو پھر کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے واپسی کی کوئی حکمت عملی بنائی ہی نہیں تھی۔ اگر ایسا ہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ ان کا واپسی کا کوئی ارادہ ہی نہیں تھا اور نہ انہوں نے یہ سوچا تھا کہ صدام کے بعد کوئی ان سے واپس جانے کے لئے کہنے کی ہمت کرے گا۔ لیکن صدام اور ان کی فوج جو کام نہیں کرسکی وہ عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی سے متعلق تصویروں نے کر دکھایا۔
معلوم یہ ہوا کہ پہلے تو ایک صدام ہی مخالف تھا اب پورا ملک مخالف ہوتا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ احمد چلابی صاحب نے بھی جو امریکہ کے قریب ترین دوستوں میں شمار ہوتے تھے مطالبہ کردیا ہے کہ ’تمہاری محبت سےہم بعض آئے اٹھاؤ پاندان اپنا۔‘ ادھر عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کی خبروں کا عالم یہ ہے کہ وہ آتی ہی چلی جارہی ہیں حالانکہ اس سلسلےمیں جو تصویریں میں نے دیکھی ہیں ان میں ظلم کے آثار کم دکھائی دیتے ہیں جنسی کج روی کی علامتیں زیادہ نظر آتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ فوجی، مرد ہوں یا خواتین، اس میں ملوث پائے گئے ہیں ان کے خلاف فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ چلانے کے بجائے انہیں واپس گھر بھیج دینا چاہئے تاکہ وہ اپنی جنسی تشنگی دور کر سکیں۔ یہ بڑا ظلم ہے کہ اپنے ملک میں تو انہیں اس سے فرصت نہیں تھی اور عراق میں گزشتہ ایک سال سے وردی کسے بیچاری یا بیچارے تجرد کی زندگی گزار رہےہیں۔اگر ان کی جنسی تشنگی بجھانے کا مناسب انتظام نہیں کیا گیا تو یہ ایسا مرض ہے کہ جو دبانے سے بڑھتا جاتا ہے اور بالآخر درندگی کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کا مظاہرہ آج کل عراق میں ہورہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ بش اور بلئیر صاحب کو اب عراق کے معاملے کو ذاتی انّا کا مسئلہ بنانے کے بجائے اسے طے کرنے کی جانب سنجیدگی سے توجہ کرنی چاہیے
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||