BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 February, 2004, 02:25 GMT 07:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ سے دوستی، عوام سے دوری

صدر جنرل مشرف اور معزول وزیراعظم نواز شریف
جنرل مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹ دیا تھا
اخباری اطلاعات کے مطابق برطانوی کمپنیاں عراق کی تعمیرِ نو کے منصوبوں میں توقع کے برعکس ٹھیکے حاصل کرنے میں اب تک ناکام رہی ہیں جس سے برطانوی حکومت خاصی پریشان ہے اور پس پردہ ایک سفارتی مہم شروع کی جارہی ہے جس کا مقصد امریکی حکام کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ برطانوی کمپنیوں کو بھی مناسب تعداد میں ٹھیکے دیۓ جائیں تاکہ اسے یعنی برطانوی حکومت کو ملک کے اندر بالخصوص عراق پر حملے کے مخالفین کے سامنے سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اپنی اس مہم میں برطانوی حکومت کو کتنی کامیابی ہوتی ہے یہ تو وقت ہی بتاۓ گا لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکہ سے دوستی ہر ایک کو بڑی مہنگی پڑتی ہے اور دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جو بھی حکومت ہو وہ امریکہ کے جتنے قریب ہوتی جاتی ہے اپنے عوام سے اتنی ہی دور ہوتی جاتی ہے۔

خود برطانوی وزیر اعظم جناب ٹونی بلئیر کو دیکھ لیں، کہ ان کی قیادت میں ایک طویل عرصے کے بعد لیبر پارٹی اقتدار میں آئی اور بہت ہی بھاری اکثریت سے آئی اور کوئی سات سال سے اقتدار میں بھی ہے اور کچھ دنوں پہلے تک مسٹر بلیئر کا شمار ملک کے ممتاز وزراء اعظام میں ہوا کرتا تھا لیکن اب ان کو اپنی پارلیمانی پارٹی میں بڑی مخالفت کا سامنا ہے یہاں تک کہ حال ہی میں تعلیم کے شعبے میں بعض اصلاحات سے متعلق بل پارلیمان سے منظور کرانے کے لۓ انہیں بڑی تگ و دو کرنی پڑی۔

اسی طرح پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف صاحب ہیں 1999 میں نواز حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار میں آئے تھے تو بہت سے لوگوں نے بڑی توقعات باندھ لی تھیں۔ پاکستان کے عوام نے بھی بڑی حد تک ان کا خیر مقدم کیا تھا اور بعض سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور صاحب الرائے حضرات نے توان سےعملی تعاون بھی کیا اور ان کی شان میں کچھ اتنے رطب السان دیکھے گۓ کہ ہم جیسے لوگوں کا بھی ان کی تعریف کرنے کو جی چاہنے لگا، لیکن گیارہ ستمبر دوہزار ایک کے بعد افغانستان کے مسئلے پر انہوں نے جیسے ہی امریکہ کی حمایت کی ٹھانی پاکستانی عوام مبینہ طور پر ان سے ناراض ہونے لگے۔

اس سے پہلے صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم کے ساتھ بھی کچھ یہی ہوا تھا۔ وہ تو آتے ہی غیر مقبول ہونا شروع ہوگۓ تھے لیکن جب انہوں نے افغانستان میں سابق سوویٹ یونین کی مداخلت کے خلاف امریکہ سے تعاون شروع کیا تو غیر مقبول ہونے کی رفتار خاصی تیز ہوگئی تھی۔ وہ تو ہوائی حاد ثے میں شہادت نصیب ہو گئی ورنہ پتہ نہیں اور کتنی غیرمقبولیت جھیلنی پڑتی۔ بہرحال اپنی یاد دلانے کو کلاشنکوف کلچر کی اصطلاح چھوڑ گۓ جو ان کے زمانے کی ہی پیداوار ہے۔

پھر یہی نہیں کہ بیشتر حکومتیں امریکہ سے دوستی کے بعد اپنے ملک میں غیر مقبول ہوجاتی ہیں بلکہ ان حکومتوں کے سربراہوں کا حشر بھی کچھ اچھا نہیں ہوتا۔

اب مصر کے صدر سعادات کو کو لے لیں، انہوں نے جو بھی کیا اپنے عوام اور اپنے ملک کی بہتری کے لۓ کیا یہاں تک کہ سینائی کا علاقہ بھی اسرائیل سے واپس مل گیا لیکن اپنی ان تمام قومی خدمات کے باوجود مصری عوام کو اپنا گرویدہ نہیں بنا سکے۔ حالآنکہ امریکہ اور مغربی ملکوں میں اپنی امن پرستی اور کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کے لۓ یاد کۓ جاتے ہیں۔

اپنے شہنشاہ رضا شاہ پہلوی بھی امریکہ کی مدد سے علاقے کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرے لیکن بظاہر جتنی طاقت پکڑتے جا رہے تھے عوام میں ان کے خلاف ناراضگی اتنی ہی بڑھتی جا رہی تھی اور اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب ایرانی عوام نے اپنے مستقبل کی باگ ڈور ان سے چھین کر قدامت پرست علماء کے ہاتھ میں پکڑا دی۔

اس فہرست میں اور بہت سارے نام آتے ہیں مثلاً ویتنام کے نیگو دین ڈیم، نیگوین وین تھیو، فلپائن کے فرڈینڈ مارکوس، عراق کے نوری السید، ترکی کے جلال بایار اور تو اور اپنی مارگریٹ تھیچر جنہوں نے اتنے کروفر سے حکومت کی کہ آئرن لیڈی یعنی فولادی خاتون کہلانے لگیں۔ لیکن اپنی امریکہ دوستی میں کچھ اتنی آگے بڑھ گئیں کہ اپنے یورپی ہمسایوں سے تو دور ہو ہی گئی تھیں اپنی پارٹی سے بھی دور ہوگئیں، یہاں تک کہ پارٹی کی قیادت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ پھر سابق سوویٹ یونین کے گور باچوف صاحب کو لے لیں، جیسے ہی انہوں نے امریکہ کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا زوال کا عمل شروع ہوگیا۔ یہاں تک کہ سویٹ یونین بھی ریزہ ریزہ ہو گیا اور روسیوں نے یلسن کو قبول کرلیا لیکن گورباچوف کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہوۓ۔

اس صورتحال سے صرف دو نتیجے نکلتے ہیں ایک تو یہ کہ امریکہ کی دوستی دوسرے فریق کے لۓ کچھ نحس ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ امریکہ اتنا بڑا ، اتنا طاقتور اور اتنا دولتمند ملک ہے کہ اس سے دوستی کرنے اور اس کو قائم رکھنے کے لۓ بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔ میں چونکہ توہم پرستی کا قائل نہیں ہوں اس لۓ چیزوں کے نحس اور مبارک ہونے پر یقین نہیں رکھتالیکن دوسری بات مجھے زیادہ قابلِ قبول لگتی ہے۔

دوستی باہمی مفادات کے احترام اور تحفظ کا نام ہے بالخصوص دو ملکوں کے درمیان دوستی اسی بنیاد پر قائم ہوتی ہے اور پنپتی بھی ہے۔لیکن اگر دوست ملکوں کے درمیان اتنا فرق ہو جتنا امریکہ اور دوسرے ملکوں کے درمیان ہے یا ہوتا ہے تو پھر توازن قائم رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔اب امریکہ کے عراق میں اپنے اتنے زیادہ اور اتنے وسیع مفادات ہیں کہ انہیں پورا کرنے سے ہی اس کو فرصت نہیں ہے وہ دوسروں کے مفادات کا کیا خیال رکھے اور پھر دوستی تو برابری کی بنیاد پر ہوتی لیکن جب دوسرا فریق امریکہ جتنا بڑا ہو تو پھر دوستی کم باجگزاری زیادہ کرنی پڑتی ہے مثلاً ’اگر آپ سے کچھ بچ جاۓ تو ہمارا بھی خیال کیجۓ گا‘۔

امریکہ کے ایک سابق وزیر خارجہ تھے جون فاسٹر ڈلیس ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے دوست نہیں ہیں بلکہ مفادات ہیں۔ ان کی یہ صاف گوئی میرے نزدیک بڑی قابل احترام ہے۔ اور امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد بھی یہی ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں ہر ملک کی خارجہ پالیسی کی یہی بنیاد ہونی چاہۓ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا پاکستان جیسے ملک کی حکومت یا اگر برطانیہ جیسا ملک بھی ہو تو اس کی حکومت امریکہ سے دوستی میں اس اصول کو اپی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنانے کی ہمت کر سکتی ہے۔ اس کو تو بہرحال، امریکی مفادات کی خاطر اپنے مفادات کی قربانی کا کڑوا گھونٹ پیناہی ہوگا چاہے اس کے لۓ اسے اپنے عوام کی ناراضگی مول لینی پڑے یا اقتدار سے ہی علیحدگی اختیار کرنی پڑے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد