BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 May, 2004, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی کوئی بھی ہوں یہی کرتے ہیں

برطانوی فوج اور عراقی قیدی
برطانوی فوجی کی شرمناک تصویر
عراق کے ایک جیل خانہ ابو غریب میں عراقی قیدیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ یہ خبر آ گئی کہ برطانوی فوجی بھی اپنے امریکی حلیفوں سے کسی طرح پیچھے نہیں ہیں۔

اس پر صدر بش اور جناب ٹونی بلیئر دونوں نے شدید غم وغصے اور شرمندگی کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں تحقیقات کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے ہیں۔

صدر بش کے بقول یہ بات اس لئے بھی دکھ کا باعث ہے کہ امریکی عوام ایسی حرکتیں نہیں کرتے ہیں اور جناب ٹونی بلئیر کا تو کہنا ہے کہ چند افراد کی یہ انسانیت سوز حرکتیں پوری قوم کی نمائندگی نہیں کرتیں۔

میں صدر بش اور جناب ٹونی بلیئر سے اتفاق کرتا ہوں کہ امریکی یا برطانوی عوام اس طرح کی حرکتیں نہیں کرتے ہیں بلکہ اگر وہ اجازت دیں تو میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ عوام کہیں کے بھی ہوں ایسی مکروہ حرکتیں نہیں کرتے لیکن فوجی جہاں کے بھی ہوں وہ ایسی ہی حرکتیں کرتے ہیں باالخصوص اگر وہ فاتح ہوں۔

چنگیز ہلاکو اور تیمور لنگ بھی جن ملکوں پر حکومت کرتے تھے وہاں کے عوام بھی ظلم، زیادتی اور تباہی بربادی اور خونریزی کے خلاف ہی ہوں گے۔ ممکن ہے خود یہ لوگ بھی اپنی نجی زندگی میں رحم اور کرم اور جود وسخا کے نمونے ہوں لیکن جب تلوار ہاتھ میں اٹھاتے تو پھر اپنی پور ی شخصیت کو اسکا تابع کردیتے۔ تیمور تو حافظ جیسے انسان دوست شاعر کو اپنے برابر تخت پربٹھانے سے بھی نہیں چوکتا تھا لیکن دشمنوں کی کھوپڑیوں کے مینار لگانے کا بھی اتنا ہی شوقین تھا۔ یہاں تک کہ اگر کسی مینار کی بلندی اس کے اپنے حوصلوں سے پست محسوس ہوتی تو بڑے فاتحانہ انداز میں اور سر کاٹنے کا حکم جاری کردیتا۔ چنانچہ اس وقت تک سر کٹتے رہتے جب تک مینار کی بلندی اس کے معیار کی بلندیوں کو نہ چھولیتی۔

صدر بش یا کوئی بھی ہو اس کے لئے اپنے فوجیوں کی ایسی حرکتیں اس صورت میں شرم کا باعث ہو جاتی ہیں جب وہ اپنی خوش فہمی میں یہ طے کر لیتے ہیں کہ ان کے فوجی انسانی تہذیب اور ان اخلاقی قدروں کے امین ہیں جو انسانوں کو درندوں سے ممیز کرتی ہیں۔ لیکن جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے فوجی بھی وہی مذموم حرکتیں کر رہے ہیں جن کے لئے صدام کے فوجی بدنام تھےتو پھرانہیں یقینی شرمندگی محوس ہوتی ہوگی۔

شاعری اور کھوپڑیوں کا مینار
تیمور تو حافظ جیسے انسان دوست شاعر کو اپنے برابر تخت پربٹھانے سے بھی نہیں چوکتا تھا لیکن دشمنوں کی کھوپڑیوں کے مینار لگانے کا بھی اتنا ہی شوقین تھا۔ یہاں تک کہ اگر کسی مینار کی بلندی اس کے اپنے حوصلوں سے پست محسوس ہوتی تو بڑے فاتحانہ انداز میں اور سر کاٹنے کا حکم جاری کردیتا۔ چنانچہ اس وقت تک سر کٹتے رہتے جبتک مینار کی بلندی اس کے معیار کی بلندیوں کو نہیں چھولیتی۔

میں سمجھتا ہوں کہ ایسی باتوں پر قطعی شرمندہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ فوجی تو فوجی ہو تے ہیں۔ انہیں تو بڑے قیمتی وسائل خرچ کر کے سکھایا جاتا ہے کہ دشمن کے سینے میں سنگین کیسے گھونپتے ہیں اور اس کے لئے دشمن کے سینے کی جگہ ریت سے بھری ہوئی بوری لٹکا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کو دشمن کا سینہ سمجھ کر چھلنی کردو۔ اسے توپ داغنے یا بم گرانے کی تربیت دی جاتی ہے تو یہ تو نہیں بتایا جاتا کہ خبردار اس سے کسی معصوم یا بے گناہ کو گزند نہ پہنچے۔ اگر ایسا ہوا تو تم میں اور کسی درندے میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔

اس طرح کی وحشیانہ تربیت کے بعد اگر ہم یہ توقع کریں کے وہ اپنے دشمن پر قابو پاتے ہی اسے گلے لگا لیں گے تو میرے خیال میں یہ ان سے زیادتی ہوگی۔ ایسی وسیع القلبی کے لئے تو بش اور بلیئر صاحب کو فوج کے تربیتی اداروں کا نصاب بدلنا پڑے گا اور فن حرب سے متعلق کتابوں کی جگہ ادب، شاعری، موسیقی اور اخلاقیات کی تعلیم دینی ہوگی۔

میں چونکہ تاریخ کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں اس لئے مجھے ان تصاویر کو دیکھ کر یا اخبارات میں ان کی تفصیل پڑھ کر سرے سے کوئی تعجب نہیں ہوا۔ اس لئے کہ ابتدائے آفرینش سے یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ فاتح جو بھی کرے جیسے بھی کرے وہ حق بجانب ہوتا ہے اور مفتوح کوئی بھی ہو اسے اپنی صلیب خود ہی اپنے کندھوں پر اٹھانی پڑتی ہے۔ اس کی تضحیک و توہین ا سکے گناہوں کی سزا تصور کی جاتی ہے، وہ کردہ ہوں یا نا کردہ۔

عراقی قیدی: فائل فوٹو
عراق میں قبضے کے بعد امریکی فوجیوں نے ہزاروں عراقیوں کو قید میں ڈالا ہے

مجھے ویتنام کی جنگ کے زمانے کی وہ تصویر بھی یاد ہے جس میں نیپام بم سے بچنے کے لئے بہت سے بچے اور عورتیں سڑک پر بھاگے جا رہے ہیں اور مائی لائی کا قتل عام بھی یاد ہے جس میں اس نام کے پورےگاؤں کو تباہ و برباد کردیا گیا اور اس کے 109 مکینوں کو جن میں بیشتر بوڑھے ، بچے اور عورتیں تھیں قتل کردیا گیا۔ اتنی دور بھی کیوں جائیں تین سال پہلے مزار شریف کے قریب افغان رہنما جناب رشید دوستم کے فوجیوں نے طالبان قیدیوں کے ساتھ کیا کیا تھا اور پھر گوانتانامو بے کے قید خانے سے جو اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں وہ بھی کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

میرے نزدیک اگر کوئی شرم کی بات ہے تو صرف یہ کہ فلوجہ کی صورت حال پر قابو پانے کے لئے اسے صدام کے ایک سابق جنرل کے حوالے کیوں کیا گیا۔ اگر صدر بش اور ان کے حلیف جلد بازی نہیں کرتے اور عراق پر حملے سے پہلے اس بات کا بھی جائزہ لے لیتے کہ آیا وہ حملہ کر کے صدام اور ان کی فوج کے ساتھ عراقی عوام کو بھی زیر کر پائیں گے یا نہیں تو ممکن ہے وہ اس مشکل سے دوچار نہیں ہوتے جس سے آج دوچار نظر آتے ہیں۔

میرے خیال میں اب بھی اگر امریکی اور ان کے دوستوں کو یہ شک ہے کہ عراق ان کے قابو میں نہیں آئے گا تو بہتر ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں بلکہ اس کی بھی ضرورت نہیں ہے، بس معاملات کو اقوام متحدہ کے حوالے کریں اور گھر کی راہ لیں۔ یہ عراقی شہروں کو صدام کے فوجی جرنلوں کے حوالے کرنے سے بدرجہا باعزت طریقہ ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد