BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 April, 2004, 11:32 GMT 16:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی سی کے نئے چیرمین کی تقرری

مائیکل گریڈ
بی بی سی کے بورڈ آف گورنرز کے نئے چیرمین مائیکل گریڈ مقرر کئے گئے ہیں۔ یہ جگہ گیوین ڈیوس کے استعفے سے خالی ہوئی تھی۔

گیوین ڈیوس بورڈ آف گورنرز کے چیرمین اور گریگ ڈائک بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ہٹن انکوائری رپورٹ کی اشاعت کے بعد مستعفی ہو گئے تھے اس لئے کہ اس رپورٹ میں بی بی سی کے طریقہء کار کے بارے میں بعض اعتراضات کئے گئے تھے یا یوں کہیے کہ یہ تاثر پیدا ہوتا تھا کہ بعض اعتراضات کئے گئے ہیں۔

ان دو اہم عہدیداروں کے مستعفی ہوجانے سے بی بی سی کے عملے کے اندر اور اس کے مستقبل کے بارے میں خود برطانوی عوام میں ایک غیر یقینی اور بے چینی کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔

مائیکل گریڈ کی تقرری سے اندازہ ہوتا ہے کہ ارباب حل وعقد کو بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ بی بی سی جیسے ادارے کے بارے میں، جو یقینی طور پر اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی کہ برطانوی پارلیمنٹ ، عدلیہ ، انتظامیہ اور دوسرے ادارے، کسی طرح کے شکوک وشبہات کا پیدا ہونا نہ صرف بی بی سی کے لئے بلکہ پوری قوم کے لئے ایک ایسا المیہ ہوگا جس کی تلافی مشکل ہے۔

مائیکل گریڈ
مسٹر گریڈ اس سے پہلے بھی بی بی سی سے وابستہ رہے ہیں اور بعض ایسے پروگرام انہوں نے شروع کیے تھے جو اب بھی جاری ہیں اور مقبول ترین پروگراموں میں شمار ہوتے ہیں۔

پھر وہ بی بی سی سے علیحدہ ہو کر ایک اور ٹیلی ویژن ’چینل فور‘ کے چیف ایگز یکٹیو بن گئے تھے۔ اس لئے وہ بی بی سی کی اہمیت، اس کے داخلی نظام اور طریقہ کار سے مکمل واقفیت رکھتے ہیں اور ان کو اندازہ ہے کہ اس اہم عہدے پر تقرری کے بعد ان کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں چنانچہ اپنی تقرری کے فوراً بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی اولین کوشش یہ ہوگی کہ وہ بی بی سی کو بے چینی اور غیر یقینی کی کیفیت سے نکالیں اور دوبارہ اس کی اپنی ڈگر پر ڈالدیں۔

ایک بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ دوسری زندہ اور حساس اقوام کی طرح برطانوی عوام بھی اپنے اداروں کے تقدس کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ وہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کی حمایت اور مخالفت کا فیصلہ عام طور پر اسی بنیاد پر کرتے ہیں کہ اس سے ان کے قومی اداروں کی ساکھ کتنی مضبوط ہو گی یا اس کی افادیت میں کتنا اضافہ ہو گا۔

میرے خیال میں ان ملکوں کی ترقی اور استحکام کا راز بھی یہی ہے کہ وہ شخصیات کے بجائے اپنے قومی اداراوں سے وفاداری کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ مثلاً برطانیہ میں اگر کوئی یہ کہے کہ ایک حکومت کو جسے دارالعوام میں اکثریت حا صل ہے توڑ دیا جائے اور اس کی جگہ مارشل لاء نافذ کردیا جائے تو لوگ اس کو خبطی یا دیوانہ سمجھیں گے۔

مائیکل گریڈ
اسی طرح کوئی وزیر یا سرکاری افسر عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کی جسارت نہیں کر سکتا۔

ایسے بے شمار واقعات ہوئے ہیں کہ حکومت نے کسی غیرملکی کو ملک سے نکالنے کا حکم دیا اور عدالت نے اس حکم کے خلاف فیصلہ صادر کردیا اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ اس لئے کہ پارلیمنٹ سے قانون تو منظور کرایا جا سکتا ہے اور ہر وہ سیاسی جماعت جو پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتی ہے اپنی مرضی کا قانون منظور کرا سکتی ہے لیکن اس قانون کی تشریح کی ذمہ داری عدلیہ کی ہے اور وہ یہ تشریح سیاق و سباق اور لغوی و معنوی اعتبار سے کرتی ہے۔

اسی طرح قوانین ہیں، اگر ان کی زد میں کوئی آگیا تو اس کو سزا بھگتنی پڑے گی۔ ایک بار میں نے ٹیوب ( زیر زمین ریلوے) سے سفر کرتے ہوئے غلط ٹکٹ لے لیا اور جب اپنی منزل پر پہنچنے پر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو میں نے ٹیوب کے عملے کو بتایا۔ انہوں نے میری ایمانداری کی تعریف کرنے کے بجائے مجھ پر دس پونڈ کا جرمانہ کردیا جو مجھے بہرحال دینا پڑا۔

مجھے اس بات پر بڑا غصے آیا کہ میں نے اپنی غلطی کی خود نشاندہی کی اس کے باوجو مجھ سے یہ رقم وصول کی جارہی ہے۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد وزیراعظم ٹونی بلیر کی اہلیہ شیری بلئیر بھی جو خود ایک ممتاز قانون دان ہیں بغیر ٹکٹ سفر کرنے کے الزام میں پکڑی گئیں اور انھیں بھی دس پونڈ کی رقم ہرجانے کے طور پر ادا کرنی پڑی۔

News image
مائیکل گریڈ
انہوں نے اپنی اس غلطی کی وجہ یہ بتائی کہ انہیں ایک مقدمہ کے سلسلے میں دیر ہورہی تھی اور ٹرین چھوٹنے والی تھی اس لئے جلدی میں ٹکٹ کے بغیر ٹرین پر سوار ہو گئیں لیکن ان کی ایک نہیں سنی گئی اور جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ مجھے یہ خبر پڑھ کر جو اطمینان ہوا اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت چکے ہیں۔

اسی طرح یہ بات طے ہے کہ وہ شخص جس کو اقتدار کی کرسی پر بٹھایا جاتا ہے اس سے اخلاقی اعتبارسے بڑے اعلیٰ معیار کا تقاضا بھی کیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک عام آدمی شراب کے نشے میں کوئی نا زیبا حرکت کرتا ہوا پکڑا جائے تو اس کی تو معافی ہے لیکن اگر کوئی اہم عہدیدار یا سرکاری افسر کے منہ سے کوئی اوچھی بات بھی نکل جائے تو اس کی پرسش ہوجاتی ہے۔ اگر کسی کی انکم ٹیکس کی چوری یا کسٹم کے قوانین کی خلاف ورزی پکڑی جائے، چاہے وہ کوئی بھی ہو تو اس کی بخشائیش نہیں ہوتی۔

نتیجہ یہ ہے کہ زندہ اقوام میں سیاست ہو یا کوئی اور عوامی شعبہ اس کی گلی میں وہی لوگ جانے کی ہمت کرتے ہیں جن کو جان ودل اتنے عزیز نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ اداروں کے لئے شخصیتوں کو تو قربان کیا جاسکتا ہے شخصیتوں کے لئے اداروں کی قربانی کا تصور بھی ایک گناہ عظیم کا درجہ رکھتا ہے۔

بی بی سی بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جسے نقصان پہنچانے کا نہ کوئی متحمل ہو سکتا ہے نہ اس کا الزام لے سکتا ہے۔ اس لئے کہ گیوین ڈیوس ہوں یا مائیکل گریڈ یہ لوگ تو آتے جاتے رہیں گے بی بی سی بہر حال قائم رہے گا اور بی بی سی صرف اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے جب وہ ان مقاصد اور اصولوں پر کار بند رہے جو اس کی بنیاد ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد