BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 April, 2004, 20:01 GMT 01:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
استحکام مشرف کے بغیر بھی ممکن

مشرف
پاکستان کے وزیرداخلہ جناب فیصل صالح حیات نے گزشتہ دنوں ’میٹ دی پریس‘ کے ایک پروگرام میں اخبار نویسوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف صاحب کو فوج کے سربراہ کے عہدے سے ابھی علیحدہ نہیں ہونا چاہیے اس لئے کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ فوج کے سربراہ اور صدر کا عہدہ ان کے ہی پاس رہے ۔

جناب فیصل کی زبان سے یہ تجویز مجھے بڑی عجیب و غریب محسوس ہوئی اس لئے کہ مجھے یہ یاد ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی سے اس زمانے میں بھی وابستہ رہے جب وہ ضیاءالحق مرحوم کے دور حکومت میں جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں مصروف تھی۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے دوسرے کارکنوں اور رہنماؤں کی طرح انہوں نے بھی طرح طرح کی صعوبتیں جھیلیں ۔

مجھے جب ان کے اس بیان کا علم ہوا تو میں نے ان سے رابطہ کیا اور اس سلسلے میں وضاحت کرنے کی درخواست کی کہ مبادا یہ بیان کسی بھول چوک کی وجہ سے تو ان سے منسوب نہیں ہو گیا ہے لیکن ان سے گفتگو کے بعد اندازہ ہوا کہ نہ صرف یہ کہ انہوں نے بہ ہوش و حواس یہ بات کہی ہے بلکہ ان کا بڑی حد تک یہ یقین ہے کہ فی الحال ملک کو جس سیاسی استحکام کی ضرورت ہے وہ جنرل پرویز مشرف صاحب ہی فراہم کر سکتے ہیں اور اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب صدارت کے ساتھ ساتھ فوج کی سربراہی بھی کرتے رہیں۔

فیصل صالح

فیصل صالح صاحب نے جتنے وثوق اور اعتماد سے یہ بات کہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی یہ تجویز کسی سیاسی موقع پرستی یا ذاتی مفاد کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ حقیقی معنوں میں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا یہی حل ہے کہ صدارت اور فوج کی قیادت ایک ہی شخص کے پاس رہے، کم از کم فی الحال۔

میں صالح حیات صاحب کی اس تجویز پر نکتہ چینی کر نے کی جسارت تو نہیں کر سکتا لیکن اپنی کم فہمی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ ضرور کہوں گا کہ مجھے ان کے اس بیان سے مایوسی ہوئی ہے۔ اور یقین ہو چلا ہے کہ اس ملک میں جمہوریت تو دور کی بات ہے شاید ایسی آمریت بھی کبھی نہ آئے جس کا مقصد صرف اور صرف ملک کی ترقی اور اس کے عوام کی فلاح و بہبود ہو۔

میں اور مجھ جیسے اور بہت سے لوگ جن میں ممکن ہے فیصل صالح حیات بھی شامل ہوں اس ملک کے وجود میں آنے کے بعد سے ابتک کسی نہ کسی شکل میں اس سے وابستہ رہے ہیں ، اس کے ساتھ جوان ہوئے ہیں اور اب بڑھاپے کی منزل میں داخل ہو گئے ہیں۔

اس عرصے میں ہم نے اس کے کئی دور دیکھے ہیں ، مثلاً پاکستان تحریک کا وہ دور جب آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت میں ہندوستانی مسلمان ایسے غضب ناک ہورہے تھے کہ انہوں نے پاکستان کے مخالف بڑے بڑے جید عالمو ں کی تضحیک اور توہین سے بھی گریز نہیں کیا۔

پھر پاکستان بننے کے بعد وہ دور بھی دیکھا جب ہر آدمی اپنی حب الوطنی کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے در پے تھا اور نہ صرف اقتدار کی دوڑ میں سب سے آگے نکلنے کی کوشش میں مصروف نظر آتا بلکہ جھوٹے سچے دعوے کر کے زمین جائداد ہتھیانے کے چکر میں بھی پیش پیش تھا۔

فیصل صالح اور شجاعت حسین

پھر وہ دور بھی آیا کہ وہ سارے بڑے بڑے سیاسی رہنما جن کے ایک بیان پر لوگ کٹ مرنے پر تیار ہوجاتے وہ آپس میں کتے خصی ہونے لگے۔ یہاں تک کہ وہ دور آگیا جب یہ یقین نہیں آتا تھا کہ آج شام تک جو حکومت تھی وہ کل صبح تک رہے گی یا نہیں۔ اور جو اس صورت حال پر اعتراض کرتا یا عقل کی بات کرتا دکھائی دیتا اس پر ملک دشمنی ، قائد اعظم اور اسلام کی مخالفت جیسے الزامات لگا کر گردن زدنی قرار دیدیا جاتا۔ اور یہ الزامات وہ لوگ لگاتے جو پاکستان بنے سے پہلے انگریز حکومت کے کارندے رہ چکے تھے اور ایسے لوگوں پر بھی لگانے سے لوگ نہیں چوکتے تھے جو جدوجہد آزادی کے چوٹی کے رہنما رہ چکے تھے۔ یعنی سنگ وخشت مقید اور سگ آزاد والی کیفیت پیدا ہوگئی اور کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔

فیصل صاحب کی اس بات سے مجھے سو فیصد اتفاق ہے کہ پاکستان کی ترقی اور خوش حالی کے لئے سیاسی استحکام لازمی ہے لیکن ان کی یہ بات کہ یہ سیاسی استحکام ایک باوردی صدر ہی ملک کو فراہم کرسکتا ہے ممکن ہے صحیح ہو لیکن مجھے ہضم نہیں ہوتی ۔ میری ناقص رائے میں جن ملکوں کو آج ہم سیاسی اور معاشی اعتبار سے مستحکم پاتے ہیں ان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کا صدر کبھی فوج کا سربراہ رہا ہو اور جن ملکوں کو غربت ، ناخواندگی، بیروزگاری جیسی لعنتوں میں گرفتار دیکھتے ہیں ان میں سے بیشتر وہ ہیں جو ایک طویل عرصے سے یا تو کسی آمر یا مطلق العنان حکمراں کے رحم وکرم پر ہیں یا ایک طویل عرصے تک اس کی چیرہ دستیوں کا شکار رہے ہیں۔

ملکوں میں سیاسی یا معاشی استحکام اس وقت آتا ہے جب وہاں جمہوری اصولوں پر سیاسی ادارے قائم ہوں اور ہر فرد، ملک کا صدر ہو یا اس کا اردلی، ان اداروں کا تابع ہو۔ آئین کو ملکی اور سیاسی معاملات میں وہ درجہ دیا جائے جو مذہبی امور میں مقدس کتابوں کو حاصل ہوتا ہے۔ عدالت اور پارلیمنٹ کے فیصلوں سے روگردانی کرنے والے کا وہ حشر کیا جائے جو ملک سے غداری کرنے والے کا ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو شخصیات کا دم چھلا بنانے کے بجائے نظریات اور اصولوں کی بنا پر فروغ دیا جائے۔ اور انتخابات اور ان کے نتائج کا احترام کیا جائے۔ صالح حیات صاحب پیروں فقیروں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے میں ان کا بڑا احترام کرتا ہوں لیکن اگر وہ اپنی شان میں گستاخی نہ سمجھیں تو یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ صدر اور فوج کے سربراہ کا عہدہ پرویز مشرف صاحب کے پاس جب تک رہے گا ان کے اختیارات میں مطلق العنانیت کا عنصر تو یقینی غالب رہ سکتا ہے ملک میں سیاسی استحکام نہیں آسکتا جس کی آرزو میں صالح صاحب نے یہ تجویز پیش کی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد