BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 April, 2004, 22:57 GMT 03:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پورا ہفتہ لاشیں گنتے رہے

بصرہ
بصرہ اور اس کے گردونواح میں چار پولیس عمارتوں پر ہونے والے بم حملوں میں اڑسٹھ افراد ہلاک ہوئے
یہ پورا ہفتہ لاشیں گنتے گزرگیا۔ بصرہ ، بغداد ، فلوجا ، ریاض، غزہ، غرب اردن، شمالی کوریا وغیرہ ہر جگہ لاشیں بکھری نظر آئیں۔

ان میں بچوں کی لاشیں بھی تھیں اور بوڑھوں کی بھی، مردوں کی بھی عورتوں کی بھی امریکیوں کی بھی اور عربوں کی بھی۔ ان ہلاکتوں میں مشیت ایزدی کو دخل تھا یا نہیں اور تھا تو کتنا تھا، یہ بتانا تو مشکل ہے اس لئے کہ اللہ اپنی مرضی اور منشا کا خود مالک ہے اور اپنے فیصلوں میں نہ کسی کو شریک کرتا ہے نہ شریک کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔

مگر یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ان میں شمالی کوریا کے سوا جہاں ٹرین کے حادثے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے باقی بیشتر وہ لاشیں تھیں جو انسانی بربریت اور درندگی کے نتیجے میں گری تھیں اور لگتا ہے کہ یہ سلسلہ شاید اور بہت دنوں تک جاری رہے اس لئے کہ تابوتوں اور جنازوں کی اس ریل پیل میں جنگی نعروں کی شدت میں کمی کے بجائے اور تیزی آتی دکھائی دے رہی ہے۔

عراق کے شیعہ رہنما جناب مقتدا الصدر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر نجف پر حملہ کیا گیا تو ان کے پیروکار خودکش حملے شروع کر دیں گے۔ ادھر اس تنبیہ کے نتیجے میں امریکی افواج کے رویے میں نرمی تو کیا آتی انہوں نے نجف اور فلوجا کے گرد اپنا گھیرا اور تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔

عراقی پولیس
امریکی فوجی حکام کے مطابق اُن کے اپنے سکھائے ہوئے عراق انہیں کے خلاف لڑ رہے ہیں
اس تنا تنی کا اگر کوئی مثبت نتیجہ نکلا ہے تو صرف یہ کہ امریکی ایڈمنسٹریٹر جناب پال بریمر صاحب نے عراق کی سابق حکمراں جماعت بعث پارٹی سے تعلق رکھنے والےافراد کو سرکاری اداروں اور فوج میں بھرتی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ صرف شرط یہ رکھی ہے کہ وہ کسی جرم میں ملوث نہ رہے ہوں۔ ممکن ہے اگر نجف اور فلوجا کے گرد گھیرا اور تنگ کرنے کی ضرورت پڑے تو یہ شرط بھی ہٹادیں۔ عراق کی حکمراں کونسل کے کچھ اراکین نے اس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے لیکن انہیں خود بھی معلوم ہے کہ وہ بہت زیادہ ناراض ہو نے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

ادھراسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون نے بھی کہا ہے کہ وہ اب امریکہ سے کئے گئے اس وعدے کے پابند نہیں ہیں کہ فلسطینی رہنما یاسر عرفات کو کوئی گزند نہ پہنچایا جائے اور اس بات سے انہوں نے صدر بش کو بھی اپنی حالیہ ملاقات میں آگاہ کردیاتھا۔

اگرچہ امریکی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کو اپنے اس وعدے کا پاس کرنا چاہئے لیکن اریل شیرون کی اگر کوئی خوبی ہے تو وہ یہ ہے کہ جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا یاکون کیا کہے گا۔

شیرون اور بش
بعض حلقے حماس کی قیادت کے خلاف اسرائیلی کارروائی کو تازہ امریکی حمایت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں
حماس کے رہنماء ڈاکٹر رنتیسی اور ان کے پیش رو شیخ یاسین کے قتل پر انہیں کوئی ندامت نہیں ہوئی اور یہ تو یہ، انہوں نے کبھی اپنے کسی ایسے اقدام پر بھی ندامت کا اظہار نہیں کیا جس کی نہ صرف پوری دنیا میں مذمت کی گئی بلکہ خود اسرائیلیوں کے نزدیک بھی مذموم تھا مثلاً 1953 میں غرب اردن کے ایک فلسطینی گاؤں کیبیا کو ان کے حکم سے مسمار کردیا گیا جس میں 69 فلسطینی ہلاک ہوگئے۔

اس کاروائی کی اسرائیل سمیت پوری دنیا میں مذمت کی گئی لیکن جناب شیرون کا کہنا تھا ان کی اطلاعات یہ تھیں کے گاؤں کے سارے لوگ فرار ہو چکے ہیں اور سارے گھر خالی ہیں اس لئے انہوں نے یہ کارروائی کی تھی۔ اب کوئی پوچھے کہ جب سارے گھر خالی ہی ہوگئے تھے تو مسمار کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

پھر جب 1982 میں وہ وزیر دفاع تھے تو لبنان کے فلسطینی مہاجر کیمپ صابرہ اور شتیلا میں جو کچھ ہوا وہ بھی اس متمدن دنیا کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے ۔ خود اسرائیل میں اس درندگی کی مذمت کی گئی لیکن ایریئل شیرون ماشاء اللہ ملک کے وزیراعظم ہیں۔

نئی انتفادہ کی تحریک کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا کہ یہ ان کی کوتاہ بینی کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ ستمبر 2000 میں مسجد اقصی کے احاطے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ داخل نہیں ہوتے تو شاید گزشتہ ساڑھے تین سال میں کوئی ایک ہزار بے گناہ اسرائیلی اور کوئی تین ہزار بے گناہ فلسطینی ہلاک نہیں ہوتے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ان کے اس اقدام کے نتیجے میں فلسطینی جان دینے اور لینے پر تُل جائیں گے اور اتنے سارے لوگ ناحق مارے جائیں گے۔

انہوں نے تو محض اپنے حریف یہود براک کو نیچا دکھانے اور انتخابات میں انتہا پسند اسرائیلیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے یہ دورہ کیا ہوگا اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوگئے لیکن اسکا نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیل کو ایک دیوار کو بچانے کے لئے ایک اور دیوار تعمیر کرنی پڑ رہی ہے۔

مجھے خطرہ ہے کہ اپنے ایریئل شیرون صاحب کی یہ دھمکی محض لن ترانی نہیں ہے بلکہ انھوں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ بات کہی ہے اور ان کو تو شاید اپنے ارادے سے باز رکھنا مشکل ہو لیکن یاسر عرفات کو تو سمجھایا جا سکتا ہے بلکہ مجبور بھی کیا جاسکتا ہے کہ اگر زندگی چاہتے ہو تو وہ کرو جو شیرون کہتے ہیں ورنہ کوئی پرسان حال بھی نہیں ہوگا۔

ممکن ہے میرے اس مشورے کوکچھ لوگ میری بزدلی پر محمول کریں اور ہو سکتا ہے وہ صحیح بھی ہوں لیکن موت پر یقین واثق رکھنے کے باوجود پتہ نہیں کیوں مجھے گولیوں کی سنسنا ہٹ، بموں کے دھماکوں اور جلتی ہوئی عمارتوں سے نکلنے والے دھوئیں سے بڑا خوف آتا ہے اور جنگ وجدل کا یہ کھیل بڑا بچگانہ بھی لگتا ہے اور وہ سورما بھی بڑے گھامڑسے لگتے ہیں جنکے سینے پر بہادری اور دلیری کے بڑے بڑے تمغے سجے دکھائی دیتے ہیں

اب آپ غور کریں کے یہ کیسے عقلمند لوگ ہیں جو ہر سال نو کھرب ڈالر فوج اور سامان حرب پر خرچ کر دیتے ہیں اور محض اس لئے کہ کسی سے انہیں اختلاف ہے۔

اتنی بڑی رقم سے تو دنیا کے تمام مفلوک الحال لوگوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کی جاسکتی ہیں۔ ناخواندہ لوگوں کو تعلیم کے مواقع اور مریضوں کو صحت فراہم کی جاسکتی ہے۔

اور پھر کسی کو مارنا ہی مقصود ہے تو اپنے ہاتھ اس کے خون سے کیوں رنگے جائیں، انتظار کیا جاسکتا ہے ۔

جہاں اللہ میاں نے اس کو پیدا کرنے کا ’دلچسپ جرم‘ کیا ہے وہاں ایک دن اس کو موت سے ہمکنار کرنے کا نیک کام بھی خود ہی انجام دے ڈالے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد