BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 June, 2004, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سب کچھ نظریۂ ضرورت کے لیے

صدر مشرف اور وزیرِ اعظم جمالی
جمالی کے انٹرویو پر صدر نے اب تک کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا
پاکستان میں کچھ ایسے بیانات حال ہی میں آئے ہیں جن سے یہ خدشہ محسوس ہونے لگا ہے کہ پھر کوئی گڑبڑ ہونے والی ہے اور ان خدشات کو بعض افواہوں سے بھی تقویت ملتی ہے۔ مثلاً وزیراعظم کی اپنی پارٹی کے بعض رہنماؤں سے ان بن ہوگئی ہے یا صدر نے ان سے کہا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں اور انہوں نے جواب دیا ہے کہ آپ مجھ کو برطرف کردیں میں مستعفی نہیں ہوں گا۔ اور یہ کہ سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اگرچہ ان باتوں میں بہت زیادہ ربط دکھائی نہیں دیتا اس لیے ان کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ کرنا بہت مشکل ہے لیکن اچانک اقتدار کے ایوانوں سے اس طرح کی آوازوں کا آنا اور اس طرح کی افواہوں کا گردش کرنا خالی از علت نہیں ہو سکتا۔ یوں لگتا ہے کہ کہیں کچھ کھچڑی پکنی شروع ہوگئی ہے اور جلد ہی کچھ ہونے والا ہے۔

اگر آپ مجھ سے یہ سوال کریں کہ اس نتیجے پر آپ کیسے پہنچے تو میں اپنے ان خدشات اور وسوسوں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکوں گا۔ میرے خیال میں علم کے حصول کا انتہائی مستند ذریعہ ’تجربہ‘ ہے اور میں اپنے تجربے کی روشنی میں کسی حد تک وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جب پاکستان میں اس طرح کی باتیں ہونے لگیں تو کوئی نہ کوئی گڑ بڑ ہوتی ہے۔

جماعت اسلامی کے ایک ممتاز رہنما پروفیسر غفور احمد ہیں۔ ان کی سیاست کا تو میں ہمیشہ سے مخالف رہا ہوں لیکن ویسے میں ان کا بے پناہ احترام کرتا ہوں۔ ان سے ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں میں نے یوں ہی پوچھا کہ اقتدار سے انکا (ضیاءالحق ) ہٹنے کا ارادہ ہے یا نہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ بظاہر تو کوئی آثار نہیں لگتے لیکن ویسے ان کی مدت تو پوری ہوگئی ہے۔

پروفیسر صاحب سے میری یہ گفتگو غالباً 1987 میں ہوئی تھی اور مجھے بہت ہی غیر منطقی بھی لگی تھی۔ لیکن بہت صحیح ثابت ہوئی۔

پروفیسر صاحب کے اس مشاہدے کی روشنی میں، میں نے جب پاکستان کی سیاسی تاریخ کا تجزیہ کیا تو اندازہ ہوا کہ وہ حکومتیں جن میں فوجی عمل دخل ہو وہ عام طور پر دس سال اقتدار میں رہتی ہیں۔ مثلاً جناب ایوب خان کی حکومت۔ وہ 1958 میں اقتدار میں آئے اور 1969 میں رخصت ہوگئے۔ جنرل ضیاء نے 1977 میں بھٹو حکومت کا تختہ الٹا اور 1988 میں خود ان کے سرکاری طیارے نے قلابازی کھائی۔

آپ کہیں گے کہ جنرل یحیٰ تو تین سال بھی نہیں نکال سکے تو اس کے بارے میں عرض ہے کہ جنرل یحیٰ کی حکومت اس سے مستثنیٰ اس لیے ہے کہ اس سے عام انتخابات کرانے اور وہ بھی ایسے عام انتخابات کرانے کی غلطی سرزد ہوگئی جن پر دھاندلی کا الزام عائد نہیں ہوتا۔ پھر انہوں نے چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے عوام کے مطالبے کا احترام کرتے ہوئے ایک یونٹ بھی توڑ دیا۔ اب ایسی باتیں فوجی حکمرانوں کو زیب نہیں دیتیں اور نہ راس آتی ہیں۔ وہ تو اللہ میاں کو ان کے ہی ذریعے ملک تڑوانا تھا اس لیے انہیں اتنے دن بھی اقتدار میں رکھا ورنہ وہ تو بہت پہلے چلے جاتے۔

جمالی
وزیرِ اعظم جمالی

جہاں تک منتخب وزراء اعظم کا تعلق ہے ان کے اقتدار کی مدت تین سال سے زیادہ نہیں ہوتی اور کوئی منتخب وزیراعظم اپنے اقتدار کو اس سے زیادہ طول دیتا ہے تو اس کو اگرچہ کسی بڑے خطاب سے تو نواز دیا جاتا ہے لیکن اس کا حشر کچھ اچھا نہیں ہوتا۔ مثلاً شہید ملت لیاقت علی خان اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو۔

جو اپنی اوقات میں رہتے ہیں ان کو ڈیڑھ دو سال اس عہدۂ جلیلہ پر فائز رکھنے کے بعد سابق وزیراعظم کا لقب دے کر فارغ کردیا جاتا ہے۔ بلکہ وہ خود ایسی باتیں شروع کر دیتے ہیں کہ ان کی رخصت کا ایک قدرتی جواز پیدا ہوجاتا ہے۔ مثلاً محمد خان جونیجو مرحوم جنرل ضیاء مرحوم کے بڑے اعتماد کے آدمی تھے لیکن وہ اپنے آپ کو سچ مچ کا وزیر اعظم سمجھنے لگے اور اوجڑی کیمپ کے سانحے کی تحقیقات کرانے پر ضد کرنے لگے۔ اب ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ان کے ساتھ وہی ہوا جو عموماً پاکستان کا صدر پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ کرتا ہے۔

دوسری مثال اپنے میاں نواز شریف کی ہے۔ وہ ایک فیصلہ کن اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئے تو سمجھنے لگے کہ اب انہوں نے میدان مار لیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف صدر کے صوابدیدی اختیارات سلب کروائے بلکہ جسٹس سجاد علی شاہ کے بھی پیچھے پڑ گئے۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن پھر انہوں نے فوج کے اس وقت کے سربراہ جنرل جہانگیر کرامت کو بھی مستعفی ہونے پر مجبور کردیا۔ یہ بھی گوارہ کر لیا گیا لیکن ان کے حوصلے بڑھتے گئے یہاں تک کہ جنرل پرویزمشرف سے بھی چھیڑ خوانی شروع کردی جو اس عہدے کے لیے خود ان کا اپنا انتخاب تھے۔ پاکستان میں یہ اپنی حدود سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ میاں صاحب مع اہل و اعیال سعودی عرب میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم جمالی نے بھی میرے خیال میں کچھ اس سے ملتی جلتی غلطیاں شروع کردی ہیں۔ مثلاً انہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہیں یہ فرما دیا کہ صدر پرویز مشرف اس سال کے اختتام پر اپنی فوجی وردی اتارنے کے پابند ہیں اور یہ کہ یہ ایک آئینی ضرورت ہے۔ ممکن ہے جناب جمالی نے یہ بات خلوص کی بنیاد پر کہی ہو لیکن جناب سیاست اور اقتدار کی رسہ کشی میں خلوص کہاں کام آتا ہے۔ یہ تو ایک ایسی لعنت ہے جو بڑے بڑے خدا رسیدہ بزرگوں سے ایسی حرکتیں کرا دیتی ہے جس کی ان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کی ایک مثال زندہ پیر حضرت عالمگیر کی ہے جنہوں نے بقول ابن انشاء مرحوم ’نہ کوئی نماز قضاء کی نہ کسی بھائی بھتیجے کو زندہ چھوڑا‘۔

میں صدر پرویز مشرف کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے جناب جمالی کے اس انٹرویو پر کوئی فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن ظاہر ہے وہ اکیلے تو ہیں نہیں، اپنے چودھری شجاعت اور مخدوم فیصل صالح حیات اور جناب شیخ رشید بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اور پھر عین ممکن ہے کہ اس سال کے اختتام پر ان کا دل وردی اتارنے کو نہیں چاہا تو محض آئینی ضرورت کے لیے تو پاکستان میں کچھ نہیں ہوتا۔ جو ہوتا ہے نظریۂ ضرورت کے لئے ہوتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد