مشرف جو کہتے ہیں کر دکھاتے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے اطلاعات کے مطابق استعفیٰ دے دیا ہے اور صدر نے اسے قبول بھی کرلیا ہے تاہم نئے وزیراعظم کی تقرری تک وہ اپنے فرائض بدستور انجام دیتے رہیں گے۔ جمالی صاحب غالباً ملک کے نویں وزیراعظم ہیں جو اپنی مدت پوری کئے بغیر اس عہدے سے ہٹنے پر مجبور ہوئے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کوہٹانے کے لئے ریڈیو پاکستان والوں کو صبح صبح قومی نغموں کی دھنیں بجانی پڑتی تھیں اور صدر مملکت کو ایک خصوصی نشریے میں قوم سے خطاب کرنا پڑتا تھا ۔ اس بار یہ ہوا کہ جمالی صاحب نے ان تکلفات کا موقع نہیں دیا بلکہ چپ چاپ مستعفی ہوگئے۔ میرے نزدیک یہ کوئی غیر متوقع بات بھی نہیں ہے اس لئے کہ جناب جمالی کا جانا تو اسی دن ٹھہر گیا تھا جس روز انہوں نے صدر پرویز مشرف کی وردی کے بارے میں حزب اختلاف سے کیے گئے وعدوں اور آئینی سمجھوتوں کا ذکر شروع کیا تھا۔ صرف انہیں ہٹانے کا طریقۂ کار طے ہونا تھا۔ بعض کا خیال تھا کہ اسی طرح ہٹایا جائے جیسے پہلے وزرائے اعظم ہٹائے جاتے رہے ہیں۔ یعنی بدعنوانی اور اقربا پروری کا الزام لگا کر حکومت کو معزول اور اسمبلیوں کو تحلیل کردیا جائے۔ بعض کا خیال تھا کہ یہ طریقہ بہت فرسودہ ہوگیا ہے اور پھر صدر پرویز مشرف سابقہ صدور جیسے ہیں بھی نہیں ، فوجی ہیں ، وردی میں ہیں اور کریلا نیم چڑھا کے مصداق جمہوریت میں بھی کامل یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے طریقہ ایسا ہونا چاہیے جو ان کی جمہوریت پسندی سے مطابقت رکھتا ہو۔ دوسری ترکیب یہ تھی کہ جناب جمالی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے لیکن اس میں خطرہ یہ تھا کہ اگر حزب اختلاف نے ان کی حمایت کردی، جس کی وہ بار بار دھمکی دیتی رہی ہے اور وہ سرکاری پارٹی سے بھی کچھ لوگوں کو توڑنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ تحریک ناکام ہوجائے گی اور اس سے جمالی مخالف گروہ کے ساتھ ساتھ صدر مشرف کو بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا اب جمالی مخالف گروہ تو آپس میں کتے خصی ہوسکتا ہے لیکن صدر مشرف اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ پھر میرا خیال ہے کہ یہ طے کیا گیا کہ ایسی صورتحال پیدا کی جائے کہ وہ جمالی صاحب خود ہی اپنا تان توبڑا اٹھا کر گھر چلےجائیں۔ یہ ترکیب کارگر ثابت ہوئی اور جمالی صاحب رخصت پر آمادہ ہوگئے۔ صدر پر ویز مشرف یوں تو فوجی ہیں اور میرے نزدیک فوجی ہر طرح کی تعریف سے بالاتر ہوتا ہے لیکن مجھے جو بات ان کی اچھی لگتی ہے وہ یہ ہے کہ جو کہتے ہیں وہ کر ڈالتے ہیں اور پھر جو کرنا چاہتے ہیں وہ کہہ بھی دیتے ہیں۔ انہوں نے میاں نواز شریف صاحب کو اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ کیا اور ہٹادیا بلکہ ملک سے ہی نکال دیا۔ صدارت کی کرسی پر بیٹھنے کا ارادہ کیا اور بیٹھ گئے۔ ہندوستان سے دوستی کا فیصلہ کیا تو جناب واجپئی صاحب نے بڑے پیترے بدلے لیکن جناب مشرف نے ان کو ہاتھ ملانے پر مجبور کر ہی دیا۔ امریکہ سے دوستی کی ٹھانی تو آپ دیکھ لیں کہ ہر وہ شرط پوری کردی جو امریکہ کی طرف سے لگائی گئی۔ حالانکہ ان میں سے بعض شرطیں تو ایسی تھیں جن کوپورا کرنے سے الف لیلوی داستانوں کے عاشق بھی انکار کردیتے لیکن جناب پرویز مشرف صاحب نے پورا کر دکھایا۔ مثلاً پاکستان میں کون یہ ہمت کرسکتا تھا کہ طالبان کی حمایت سے انکار کردے لیکن جناب مشرف صاحب نے نہ صرف طالبان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا بلکہ اس حد کو پہنچ گئے کہ اگر ان کے اپنے کسی شہری نے بھی طالبان کی حمائت یا ہمدردی میں دو لفظ کہے تو اس پر بھی ٹوٹ پڑے اور بالآخر امریکہ کو مجبور کردیا کہ وہ اور کچھ نہیں تو کم از کم انہیں اپنے ”نیٹو کے باہرکے اتحادیوں” کی فہرست میں ہی شامل کرلے۔ اب یہ لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے طور پر یہ طے کرلیا ہے کہ ملک میں پارلیمنٹ بھی رہے گی اور وزیراعظم بھی رہے گا ، اس کی حکومت بھی ہوگی لیکن راج کرے گا خالصا اور مجھے یہ یقین ہے کہ وہ یہ کر دکھائیں گے۔ صرف خطرہ یہ ہے کہ وہ صورتحال نہ پیدا ہوجائے جو لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ہوئی تھی۔ اس لیے کہ حال ہی میں پاکستان کی سلامتی کونسل کا جو اجلاس ہوا تھا اس میں یہ تو طے ہوا تھا کہ پارلیمنٹ کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے اور یہ بھی طے ہوا تھا کہ جمہوریت کا تسلسل ملک کے مفاد میں ہے لیکن یہ نہیں کہا گیا تھا کہ حکومت کو بھی اپنی مدت پوری کرنے دی جائے گی ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||