یہ انتخابات اور وہ انتخابات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہاں انگلستان اور ویلز میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات دس جون کو ہوئے جن کے نتائج بعض لوگوں کے لئے بڑے غیر متوقع ثابت ہوئے۔ کہتے ہیں کہ حکمراں لیبر پارٹی کو کسی بھی بلدیاتی انتخاب میں انیس سو اٹھارہ کے بعد اتنے کم ووٹ نہیں ملے۔ بیشتر اخبارات اور سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ عراق سے متعلق لیبر پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف عوام کا احتجاج ہے ، خود نائب وزیر اعظم مسٹر پریسکاٹ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کین لیونگسٹن جو بڑی مقبول شخصیت ہیں ، اتنی مقبول کہ لندن کے مئیر کے گزشتہ انتخابات میں لیبر پارٹی نے انہیں اپنا امیدوار نامزد نہیں کیا تو وہ آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے لیبر پارٹی کے سرکاری امیدوار سمیت اپنے تمام حریفوں کو چت کردیا۔ اس بار لیبر پارٹی نے ان کو مجبوراً اپنا امیدوار نامزد کیا تو وہ بڑی مشکل سے کامیاب ہوئے اور ووٹروں نے انہیں محض اس لئے بخش دیا کہ انہوں نے، لیبر پارٹی میں واپس آنے کے بعد بھی، عراق اور مشرق وسطیٰ سے متعلق کبھی اس کی پالیسیوں کی حمایت نہیں کی۔
یہ انتخابات دس جون کو ہونے تھے ، کوئی تین یا چار ماہ پہلے میرے پاس ایک خط ، انتخابی ادارے کی جانب سے آیا کے آپ کے گھر میں فلاں فلاں کے نام ووٹرز کی فہرست میں درج ہیں اگر مزید ووٹروں کے نام درج کرانے ہیں تو مندرجہ ذیل خانوں میں تفصیل درج کرکے فلاں پتے پر بھیج دیں ۔ انتخاب سے کوئی دو ہفتے پہلے گھر کے ہر ووٹر کے نام ایک ایک کارڈ آگیا جس میں نام نمبر اور پولنگ بوتھ تک پہنچنے کا نقشہ موجود تھا۔ اس کے چند دن بعد ایک کتابچہ آگیا جس میں امیدواروں کی فہرست، ان کا تعارف ان کا منشور اور ان کی پارٹیوں کے نام اور دیگر تفصیلات سب درج تھیں۔ میں دس جون کو اپنی بیوی کے ساتھ پولنگ بوتھ پر گیا ۔ وہاں پولنگ عملے کے دو افراد بیٹھے ہوئے تھے ، ایک مرد اور ایک خاتون، کوئی پولیس نہیں تھی کوئی فوجی نہیں تھا، کوئی ہنگامہ نہیں تھا کوئی تنبو نہیں لگا ہوا تھا۔ کوئی کنویسنگ نہیں کررہا تھا۔ کسی پارٹی کا کوئی نمائندہ نہیں موجود تھا۔ ہم دونوں نے اپنے اپنے ووٹ اپنی پسند کے امیدواروں کو ڈالے اور خراماں خراماں گھر واپس آگئے۔
بیلٹ بکس کی چھینا جھپٹی، پولنگ اسٹیشن کے علاقے میں ہنگامہ آرائی غنڈہ گردی، عام بات ہے۔ ووٹوں کی خرید وفروخت بھی عام ہوتی ہے۔ لوٹے ، بیگن اور ہارس ٹرینگ کی اصطلاحیں بھی ان ہی ملکوں میں سنی جاتی ہیں۔ اچھا پھر ہارنے والا امیدوار ہو یا پارٹی وہ کبھی نتائج قبول نہیں کرتے۔ جیتنے والے پر انتخابی دھاندلی کا الزام ایسے عائد کرتے ہیں جیسے یہ ان کا آئینی حق ہو ۔ پاکستان میں یہ روایت خاصی پرانی ہے۔ 1971 میں عوامی لیگ جیتی تو پیپلز پارٹی نے اس کا ناطقہ بند کردیا، 1977 میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی تو پی این اے نے اس کے خلاف تحریک چلادی ۔ بی بی بے نظیر مرکز میں جیت گئیں تو نواز شریف صاحب نے پنجاب میں ان کے لئے مشکلات پیدا کردیں۔ میاں نواز شریف جیت گئے تو بی بی بے نظیر نے ان پر دھاندلی کے الزامات عائد کرنے شروع کردیئے۔ 1990میں بے نظیر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے لگی تو انہوں نے اپنے حامی اراکین اسمبلی کو فضائیہ کے طیارے پر سیدو شریف بھجوادیا کہ کہیں ان کو مخالف پارٹی ’تو ڑ‘ نہ لے اور ان کے مخلفین نے اپنے حامیوں کو مری کے پر تکلف ہوٹلوں میں نظربند کرادیا کے تحریک پر ووٹنگ والے دن ان کو اسمبلی میں لایا جائے گا۔ پھر وہ مناظر بھی لوگوں کو یاد ہونگے کہ 1990 کے عام انتخابات کے بعد جب میاں نواز شریف کی حکومت آئی اور غلام اسحاق خان اسمبلی کا افتتاح کرنے آئےتو پیپلز پارٹی والے احتجاجی نعرے لگا رہے تھے ’گو با با گو‘ اور میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ یہ جو کہا جاتا ہے کیا صحیح ہے کہ جمہوریت ایک ثقافت ہے جو پاکستان یا اس جیسے دوسرے ملکوں میں نہیں پنپ سکتی۔ اس لئے کہ اس ثقافت کے فروغ میں رواداری، برداشت اور صبر وتحمل کو لازمی عنصر کی حیثیت حاصل ہے جو ان ملکوں میں ناپیدہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||