آسیان کی رکنیت کتنی اہم ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کو جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کے علاقائی فورم میں شامل کرلیا گیا ہے اور یہ شمولیت اس لئے ممکن ہوسکی کہ ہندوستان نے جو اس فورم میں اس کی شمولیت کا سب سے بڑا مخالف تھا بالآخر رام ہوگیا اور اس نے اپنی مخالفت ترک کردی۔ فورم کا اجلاس آج کل انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں ہورہا ہے۔ اجلاس میں ہندوستان اور پاکستان کے وزراء خارجہ بھی شرکت کر رہے ہیں اور دونوں کی ،فورم کے اجلاس سے باہر ، ایک مختصر سی ملاقات بھی ہوئی ہے جس کے بعد ہندوستان کے وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کو آگے بڑھانے کی سعی کی گئی ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ جناب خورشید محمود قصوری نے بھی کچھ اسی طرح کے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک کامیابی قرار دیا۔ میں جناب مسعود خان کے اس بیان سے نہ صرف اتفاق کرتا ہوں بلکہ میں اگر یہ کہوں تو بے جا نہیں ہوگا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں گزشتہ کچھ دنوں سے ایک نمایاں تبدیلی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں جو اس اعتبار سے خاصے مثبت ہیں کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ اپنے علاقے یعنی جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی جڑیں مضبوط اور گہری کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں ورنہ اب تک اس کی پہنچ ’بحیرہ روم کے ساحل سے تا بخاک کاشغر‘ ہی تھی اور ان ملکوں کے بارے میں بھی اس کے روئیے کا انحصار حقائق سے زیادہ جزباتیت یا ان کے حالات سے ناواقفیت کی بنیاد پر تھا۔ وہاں ہوتا کچھ اور تھا اور پاکستان کے حکمراں کرتے کچھ اور تھے ۔اور یہ پاکستان کی ہی بات نہیں ہے بلکہ آزادی سے پہلے بھی عالمی امور کے بارے میں ہندوستان کے مسلمان رہنماؤں کا رویہ کچھ اسی طرح کی جزباتیت کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ یہ سلسلہ پاکستان کے قیام کے بعد کچھ اور زور وشور سے شروع ہوگیا۔ مثلاً اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان کے عوام تو مشرقی وسطیٰ اور دوسرے ایفرو ایشیائی ملکوں کی مغربی ملکوں کے چنگل سے آزاد ہونے کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد تصور کرتے تھے اور پاکستان کی حکومتیں مغربی ممالک کی گود میں اپنی جگہ بنانے کی کوششیں کرر ہی تھیں۔ اب یہ سوچی سمجھی پالیسی تھی یا عالمی امور سے ناواقفیت۔ یہ تو وہی لوگ بتا سکتے ہیں جو اس دور میں ملک کے سیاہ اور سفید کے مالک تھے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس پالیسی سے پاکستان کی ساکھ کو مشرق وسطیٰ اور نوآزاد ملکوں کی برادری میں بڑا نقصان پہنچا۔ دوسری جانب اسی زمانے میں ہندوستان ، یوگوسلاویہ ، مصر اور انڈونیشیا غیر وابستہ تحریک کے سر خیل بنے ہوئے تھے اور نو آزاد ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے ۔ا س کا نتیجہ جو نکلنا تھا وہ نکلا مشرقی وسطیٰ اور نوآزاد ملکوں کی نظروں میں ہندوستان انکا ایک دوست اور ہمدرد بن کر سامنے آیا اور پاکستان ان ملکوں میں شمار ہونے لگا جو جو مغربی ملکوں کے گماشتے کی حیثیت سے مشہور تھے۔ ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں حقیقت پسندی کا رجہان دیکھنے میں آیا ہے ۔ وہ غالباً پہلی مرتبہ جزباتیت کے بجائے حقائق کی روشنی میں اپنی سمت کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نہ صرف جنوبی ایشیا کے ملکوں کی تنظیم سارک میں اس نے زیادہ فعال کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے بلکہ ہندوستان سے بھی اپنے تعلقات کو تمام تر مشکلات کے باوجود آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر اس میں وہ کامیاب ہوگیا تو نہ صرف اس کی معیشت اور سلامتی پر بہتر اثرات پڑیں گے بلکہ عالمی امور میں بھی اس کا وقار بلند ہوگا۔ اس تبدیلی کے اسباب کیا ہیں یہ ایک الگ بحث ہے اور میں اس میں فی الوقت پڑنا نہیں چاہتا صرف اتنا کہنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ کبھی کبھی رحمتوں کا نذول ایسی شکلوں میں بھی ہوتا ہے جو بظاہر ناگوار ہوتی ہیں۔ ان کو محض ان کی مکرو ہ شکل کی بنیاد پر مسترد نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس سے حتی الامکان فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بہر حال یوں تو مجھے جناب پرویز مشرف صاحب کی وردی اور جرنیلی اور حکومت پر ان کی گرفت سب بری لگتی ہیں لیکن پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اس تبدیلی کا کریڈٹ میں ان کو دیتا ہوں ، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان بھی ذرا وسیع القلبی کا مظاہرہ کرے تاکہ یہ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اسے تقویت پہنچے اور فروغ حاصل ہو۔ اس لئے کہ یہ نہ صرف ہندوستان اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے بلکہ اس سے علاقے کے تمام ملکوں کو فائدہ پہنچے گا اور مغربی ملکوں پر ان کا انحصار کم ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||