آج 14 اگست ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج 4اگست ہے، اب تک جتنےچودہ اگست گزرے ہیں میں نے بہ ہوش و حواس دیکھے ہیں اور ہر بار یہ احساس بڑی شدت سے ہوا کہ منافقت، بد عنوانی، تنگ نظری ، ریاکاری اورعدم رواداری کا ایک سال اور گزر گیا۔ اگر مجھے بتانے کے لیے کہا جائے کہ ستاون سال کے اس طویل عرصے میں کون سی ایسی بات ہے جس پر بحیثیت پاکستانی فخر کیا جا سکتا ہے؟ تو میرا جواب ہوگا کہ قابل فخر تو میرے نزدیک کچھ بھی نہیں ہے لیکن ایک بات کے لیے میں خدا وند تعالیٰ کا مشکور ضرور ہوں کہ بحیثیت پاکستانی میری تمام کمینگیوں کے باوجود اس نے اس ملک کو اب تک قائم رکھا ہوا ہے۔ آپ ’جس کی دم اٹھا کے دیکھا مادہ نکلا‘ کے مصداق کسی شعبے کو لے لیں ، یوں لگتا ہے کہ زوال کا عمل جو آزادی کے فوراً بعد شروع ہوا تھا وہ جاری ہے۔ کہیں تو یہ عالم تھا کہ بقول شخصے وزارت خارجہ میں ایک ٹائپ رائٹر تھا اور وزارت خارجہہ نہ صرف کام کر رہی تھی بلکہ بہت فعال اور موثر تصور کی جاتی تھی ، اب یہ حال ہے کہ ہر محکمے کا دفتر ایک پرشکوہ عمارت میں قائم ہے اور اس کے ہر افسر کو ماشااللہ وہ ساری سہولتیں حاصل ہیں جن کا ان کے پیش رو تصور بھی نہیں کر سکتے تھے لیکن کام کے اعتبار سے جتنی سہولتیں حاصل ہیں اتنے ہی سستی اور کاہلی کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے ۔ بدعنوانی یا رشوت ستانی کو ہی لے لیجئے۔ پہلے بھی لوگ رشوت لیتے تھے ۔ لیکن آج جس دیدہ دلیری سے یہ کام کیا جاتا ہے اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔ پھر پہلے ” دست غیب ” سے حاصل کی گئی رقم کو لوگ ظاہر کرنے سے گھبراتے تھے ، اپنے نام سے مکان یا جائیداد نہیں خریدتے تھے کہ کہیں بدعنوانی کا الزام نہ لگ جائے ، اب عالم یہ ہے کہ تنخواہ کا ذکر کرتے ہوئے شرماتے ہوں تو ہوں اس لئے کہ واقعی کم ہوتی ہے لیکن رشوت کے بنے ہوئے مکانوں پر بقول شخصے ” ہٰذامن فضل ربی ً لکھنے میں بھی کوئی تردد محسوس نہیں کرتے۔ پاکستان بننے کے بعد جب حب الوطنی اور مذہبی جوش وخروش ذرا دھیما پڑا اور بیشتر لوگوں نے اپنی ”قربانیوں ” کی قیمتیں متروکہ جائیداد کے الاٹمنٹوں کی شکل میں وصول کرنی شروع کیں تو اس کے لیے بھی انہیں جعلی ہی سہی لیکن اپنی چھوڑی ہوئی جائیداد کے ثبوت کے طور پر کچھ کاغذات وغیرہ پیش کرنے پڑتے تھے ۔ اب اس کی بھی ضرورت نہیں ، مختلف شہروں میں قبضہ گروپ وجود میں آگئے ہیں اور ان کا اپنے علاقوں میں بڑا رعب داب ہے۔ قومی سطح پر اور ذاتی زندگی میں ترجیحات کا یہ عالم ہے کہ جہاں دیکھو گاڑی کے پیچھے گھوڑا بندھا ہوا ہے۔ سرکاری دفاتر کی عمارتیں دیکھو تو صدام حسین کے محلات کا شبہہ ہوتا ہے اور اسکولوں اور اسپتالوں کی عمارتوں کا عالم یہ ہے کہ ان کی دیواروں سے لپٹ کر رونے کو دل چاہتا ہے۔ ذاتی طور پر لوگ اپنے بچے یا بچی کی تعلیم پر کم شادی پر زیادہ خرچ کر تے ہیں۔ پہلے شرفا کے گھروں میں فرنیچر چاہے جیسا بھی ہو لیکن کتابوں کی ایک الماری اور پڑھنے لکھنی کی ایک میز ضرور ہوتی تھی اور اسی سے ان کے ذوق سلیم کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔ اب یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا، اگر کسی کے گھر میں کتابیں ہوتی بھی ہیں تو ’پڑھنے کے لئے نہیں، دکھانے کے لئے ہوتی ہیں۔‘ سیاسی رہنماؤں کے علم وتدبر کا یہ عالم ہے کہ اسملیوں میں کی جانے والی تقریروں سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گلی کے بچے گلی ڈنڈا کھیلتے ہوئے آپس میں لڑ پڑے ہوں۔ پہلے کم از کم اسمبلیوں میں تقریریں سننے میں مزا تو آتا تھا اور کچھ نہ سہی زبان کی چاشنی تو ہوتی تھی کچھ اچھے شعر ہی سننے کو مل جاتے تھے۔اب اس سے بھی گئے ۔ بعض اراکین اور وزراء کی تقریر سن کر تو رحم آنے لگتا ہے کہ اگر ’آپ جانتے تھے کہ کچھ نہیں جانتے‘ تو تقریر کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی اور اگر بولنا اتنا ضروری تھا تو کسی سے لکھوا ہی لاتے۔ سیاست کا جہاں تک تعلق ہے تو آپ اندازہ کریں کہ تین آئین اب تک آچکے ہیں اوراس سے زیادہ لیگل فریم ورک آرڈر ۔چار بار فوج اقتدار سنبھال چکی ہے لیکن وہی ڈھاک کے تین پات جو مسائل 1947 میں زیر بحث تھے وہی آج بھی ہیں، نظام حکومت صدارتی ہو یا پارلیمانی ، صوبوں کو خودمختاری ملنی چاہئے یا نہیں اور اگر ملنی چاہئے تو کتنی۔ انتخابات مخلوط ہونے چاہئیں یا جداگانہ، کبھی مخلوط ہوجاتے ہیں کبھی جداگانہ۔اور اگر کسی سے پوچھو کہ بھائی! یہ باتیں اب تک کیوں طے نہیں ہوئیں تو وہ بڑے اطمنان سے کہدے گا کہ جی! قائد اعظم کا انتقال ہو گیا۔ بعض لوگ تو مہنگائی ، بیروزگاری اور چور بازاری کا سبب بھی قائد اعظم کی ’ناگہانی‘ موت کو ہی قرار دیتے ہیں۔اب اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ قائد اعظم کی ہی ذات پر موقوف تھی ’اس گھر کی رونق‘ تو پھر ان بارہ تیرہ کروڑ لوگوں کا کیا بنے گا جن کا مستقبل اس ملک کے مستقبل سے نتھی ہے اس لیے کہ قائد اعظم تو دوبارہ جنم لینے سے رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||