غیر ضروری تاخیر سے گریز کیجئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایسی دنیا میں جہاں گولیوں کی سنسناہٹ اور بموں کے دھماکوں سے انسانی تہذیب کی روشنیاں ماند ہوتی نظر آرہی ہوں اور جہاں امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں کے سراغ رسانی کے محکمے اپنی حکومتوں کی دانستہ یا نا دانستہ سبکی کا باعث بن رہے ہیں وہاں یہ خبر دنیا کے امن پسند لوگوں کے لیے یقینی خوشی کا باعث ہوگی کہ پاکستان اور ہندوستان کی حکومتیں مذاکرات کے نظام اوقات اور طریقہ کار پر رضامند ہوگئی ہیں جسکا آغاز جولائی کے آخری ہفتے میں ہوگا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں حکومت کی تبدیلی اور پاکستان میں وزیر اعظم کی تبدیلی کے باوجود، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا جو سلسلہ اس سال سارک سربراہی اجلاس سے شروع ہوا تھا وہ نہ صرف جاری ہے بلکہ دونوں ملکوں کی حکومتیں اسے انتہائی سنجیدہ انداز میں چلانے اور آگے بڑھانے کی خواہشمند بھی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ملکوں کے رویئے میں جو تبدیلی آئی ہے اس سے ہر اس شخص کی ، جو دونوں کے تعلقات میں بہتری کی آرزو رکھتا ہے ، یہی خواہش ہوگی بس بات چیت غیر ضروری طول نہ کھینچے اور ایک ہی نشست میں سارے معاملات طے ہوجائیں لیکن ، ایسے ہوتا نہیں ہے۔ تعلقات بگڑنے میں تو دیر نہیں لگتی۔ ایک جوشیلا بیان ، ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت اور ایک ذرا سی غلط فہمی کافی ہوتی ہے لیکن ان غلط فہمیوں کو دور کرنا بڑا صبر آزما کام ہوتا ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں زہر گھولنے کا عمل نصف صدی سے بھی زیادہ طویل عرصے سے جاری تھا جس کے نتیجے میں اصل مسائل پرو پیگینڈے اور غلط فہمیوں کی موٹی موٹی تہوں کے نیچے چھپ گئے ہیں ۔ کچھ دنوں پہلے تک مسائل حل کرنے کی بات کرنے کے بجائے دونوں فریق ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے میں کیڑے نکالنے پر اپنی توانائیا ں زیادہ صرف کر رہے تھے۔ پاکستان یہ ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا کہ ہندوستان علاقے پر اپنی بالدستی قائم کرنا چاہتا ہے اور ہندوستان یہ ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا منبہ ہے۔ مجھے یاد نہیں ہے لیکن غالباً یہ چارلی چیپلین کی فلم تھی جس میں دو ڈکٹیٹروں کی ملاقات کا ایک منظر دکھایا گیا تھا۔ دونوں ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں کہ اچانک ایک کو خیال آتا ہے کہ اسے دوسرے سے ذرا اونچا ہونا چاہئے اور وہ اپنی کرسی کا ایک کھٹکا دباتا ہے اور اس کی کرسی ،دوسرے کے مقابلے میں ذرا اونچی ہوجاتی ہے۔ دوسرے کو جیسے ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ سامنے والے کی کرسی اونچی ہوگئی ہے ۔ وہ ساری گفتگو چھوڑ چھاڑ کر اپنی کرسی کو اونچا کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے اور با لاًخر اونچی کرکے دم لیتا ہے اور پھر یہ سلسلہ جو شروع ہوتا ہے تو آخری منظر کچھ اس طرح کا ہے کہ دونوں اپنی اپنی کرسیوں پر پیر لٹکا ئے بیٹھے ہوئے ہیں اور مذاکرات کی میزنیچے خالی پڑی ہوئی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے رہنماؤں کا رویہ بھی ابتک ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں نے یہ محسوس کیا ہے کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر کچھ حاصل نہی کر سکتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کیا جائے اور مسائل سے انکار کے بجائے ان کے وجود کو تسلیم کیا جائے۔ اور پھر انہیں حل کرنے کی سعی کی جائے۔ منٹو کا ایک مختصر ترین افسانہ ”موتری” پڑھنے کا کبھی اتفاق ہوا تھا جو اب لفظ بہ لفظ تو یاد نہیں لیکن کچھ یوں تھا کہ ایک بار بمبئی کی کسی سڑک سے گزرتے ہوئے انہیں پیشاب کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ ایک پیشاب خانے یا ” موتری ” میں گھس گئے۔ وہاں دیواروں پر کوئلے سے عضو مخصوص اور اندام نہانی کی تصویریں بنی ہوئی تھیں اور بڑے بڑے حروف میں لکھا ہوا تھا ” مسلمانوں کی ماں کا پاکستان مارو ” کچھ دنوں کے بعد پھر اسی طرف سے گزر ہوا اور پھر پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی چنانچہ پھر اسی موتری میں گھس گئے اب وہاں پچھلی تحریریں کچھ مٹی مٹی سی نظر آئیں اور کسی نے کوئلے سے موٹا موٹا لکھا ہوا تھا ” ہندؤں کی ماں کا اکھنڈ بھارت مارو” تیسری بار ادھر سے گزر ہوا تو اب کی یہ دیکھنے کے لیے موتری میں گئے کہ اب کیا لکھا ہے تو اب کی سابقہ دونوں تحریریں کے صرف آثار پس منظر میں نظر آرہے تھے اور بہت نمایاں اور موٹا موٹا لکھا ہوا تھا ” دونوں کی ماں کا ہندوستان پاکستان ماروں ۔" میں بھی سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں ایسے لوگوں کی تعداد خاصی کم ہوئی ہے جو لال قلع پر جھنڈا لہرانے کی آرزو میں زندگی کے دن کاٹ رہے تھےاور ہندوستان میں بھی اب بہت کم ایسے ملیں گے جو ابتک اکھنڈ بھارت کے خواب کو سینے سے لگائے بیٹھے ہوں۔ دونوں ملکوں کے عوام، دانشور، ادیب، شاعر ،صحافی، مزدور رہنما، ڈاکٹر، وکلاء سماجی کارکن، سب ایک دوسرے سے میل جول بڑھانا چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں اور تو دونوں طرف کے بہت سے سابق جنرل بھی ، ٹریک ٹو ، سفارتکاری میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک دوسرے کے قریب آنے کے لیے حالات کبھی اتنے سازگار نہیں ہوئے جتنے آج ہیں اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرنا ناعاقبت اندیشی ہوگی۔ اس میں غیر ضروری عجلت بھی نہیں کرنی چاہئے ، لیکن غیر ضروری تاخیر سے بھی گریز کرنا چاہئے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||