اپنی ڈفلی اپنا راگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں تاریخ آگے بڑھنے کے بجائے دائرے میں گھومتی رہتی ہے، ساری دنیا کے ترقی یافتہ اور جمہوری ملکوں کی تاریخ کا آپ مطالع کریں تو اندازہ ہوگا کہ وہاں مسائل پیدا ہوتے ہیں ، انہیں حل کرنے کی سعی کی جاتی ہے ، اس سے کئی دوسرے مسائل پیدا ہوتے ہیں پھر انہیں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس طرح معاشرہ ترقی کرتا رہتا ہے اور تاریخ آگے بڑھتی رہتی ہے ۔ پھر یہ بھی ہے کہ جو باتیں طے ہوجاتی ہیں وہ طے ہوجاتی ہیں اور اگر کبھی بدلے ہوئے حالات میں ان کو تبدیل کرنے کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے تو اس کا بھی ایک طے شدہ طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے تاکہ نزاع کی کوئی صورت پیدا نہ ہو اورغیرضروری بحث مباحثے میں لوگوں کی توانائی ضائع نہ ہو ۔ پاکستان کی 57 سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کچھ طے ہی نہیں ہو پاتا ۔جو مسا ئل پہلے دن درپیش تھے وہی آج بھی ۔ پھر یہ کہا جانے لگا کہ صدر صاحب خود اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے اور وہ فیصلہ کریں گے جو ملک وقوم کے مفاد میں ہوگا۔ پھر یہ بیانات شروع ہوگئے کہ ملک کی ترقی ، خوشحالی اور سیاسی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ صدر وردی نہ اتاریں۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ صدر صاحب موجودہ آئین کے تحت دونوں عہدے رکھنے کے مجاز ہیں ۔ادھر حزب اختلاف والے کہتے ہیں کہ ” اس مسئلے کے بارے میں صدر صاحب آئینی طور پر نہ پہلے صحیح تھے ، نہ اب ہیں، نہ آئندہ ہوں گے۔ میر ا خیال ہے اب یہ قضئیہ طے ہوجانا چاہئے ۔ صدر صاحب کو خود اس بارے میں کوئی حتمی اور دو ٹوک بات کرنی چاہئے ۔ اگر وہ وردی نہیں اتارنا چاہتے ہیں تو یہ کہ دینے میں کیا حرج ہے۔ حزب اختلاف کو بھی اس معاملے کو بہت زیادہ طول نہیں دینا چاہئے۔ اگر صدر صاحب کو وردی اتارنے میں تردد ہے تو پہننے دیجئے۔ اگر آپ ان کی وردی اتارنے میں کامیاب بھی ہوگئے تو کوئی اور پہن لے گا۔ ایوب خان نے وردی اتار دی تھی تو کیا ہوا یحییٰ خان نے پہن لی، ان کی وردی کسی طرح اتری تو ضیاءالحق نے پہن لی ، وردی اتارنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، بلکہ میں تو کہتا ہوں کے یہ طے کیوں نہیں کرلیا جاتا کہ جو فوج کا سربراہ ہوگا وہی صدر بھی ہوگا ۔ آئین کی خلاف ورزی کا قصہ ہی ختم ہو جائے گا اور اسطرح کے مسئلوں میں جو وقت اور توانائی ضائع ہوتی ہے وہ بھی بچے گی ۔ ہندوستان سے تعلقات کے بارے میں بھی پاکستان کی حکومت کے رویے میں بڑا ابہام پایا جاتا ہے۔ وزیر خارجہ جناب خورشید قصوری کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہورہی ہے۔ لیکن وزیر اطلاعات شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات سے بہت زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس کی بات صحیح سمجھی جائے ماشا اللہ دونوں ہی حکومت کی ذمہ دار شخصیتیں ہیں اور دونوں ہی حکومت کی ترجمانی کے دعوے داربھی ہیں۔ اچھا پھر صدر یا وزیراعظم کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی ایسا وضاحتی بیان بھی نہیں آیا جس سے یہ ابہام دور ہو۔ یہی حال کالا باغ ڈیم کے منصوبے کا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ فیصلہ ہوچکا ہے، کوئی کہتا ہے کہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے، چاروں صوبوں کے عوام کو اعتماد میں لیا جائے گا ۔ تازہ ترین افواہ یہ تھی کہ اس سلسلے میں ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ متعلقہ وزیر جناب لیاقت جتوئی نے ایک اخباری کانفرنس میں اس کی تو تردید کردی کہ حکومت اس سلسلے میں ریفرنڈم کرانے کی سوچ رہی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ آخر اس سلسلے میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی، نتیجہ یہ ہے کہ کسی کو پتہ نہیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ میرا اپنا خیال ہے کہ ایک اچھی حکومت کو اپنی پالیسی اور حکمت عملی میں بہت واضح ہونا چاہئے، اس سے نہ صرف عوام کو چیزوں کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ خود حکومت کے کارندوں کو بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو کیا کرنا ہے اور یہ اپنی ڈفلی اور اپنا راگ والی صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||