BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 September, 2004, 15:06 GMT 20:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئے پاکستانی سفیر کے لیے مشکلات

جنرل (ریٹائرڈ) جہانگیر کرامت
واقفان واشنگٹن جانتے ہیں کہ امریکہ پاکستانی فوج کے ساتھ ہی تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ پس پردہ امریکیوں کو کئی دفعہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ اب ہم پاکستانی فوج کے ساتھ نوے کی دہائی کی طرح کبھی نہیں بگاڑیں گے۔یہ بھی طے ہے کہ آئندہ چند سالوں میں پاکستان کے لئےدی جانے والی امریکی امداد کا بہت سا حصہ اسلحے کی خریداری کے لئے صرف ہوگا۔ اس لئے جنرل جہانگیر کرامت کا بطور سفیر کے آنا کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔ اگر امریکہ نے پاکستان فوج کے ساتھ ہی تعلق رکھنا ہے تو جنرل جہانگیر کرامت سے بہتر کون ہوگا؟

جنرل کرامت پاکستانی فوج کے پہلے کمانڈر ان چیف ہوں گے جو واشنگٹن میں سفیر بن کر آ رہے ہیں۔ ان کی تقرری کے بارے میں سوال اتنا تھا کہ وہ خود اس عہدے کے لئے آنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اگرچہ وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ صدر مشرف ان کو کبھی انکاربھی نہیں کریں گے اور اس عہدے کی پیشکش بھی نہیں لیکن لگتا ہے کہ سابقہ کمانڈر ان چیف پیشکش کے نتیجے میں ہی واشنگٹن تشریف لا رہے ہیں۔ یہ بات بھی طے تھی کہ ان کی سفارت کے لئے امریکیوں کی منظوری کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ وہ واشنگٹن میں بروکنگ انسٹیٹیوٹ میں ایک سال گزار کر واشنگٹن کے حلقوں میں اِن سائیڈر یا گھر کے بھیدی ہو چکے ہیں۔

سب ظاہری آسانیوں کے باوجود ان کوبہت ہی سنجیدہ اور گھمبیر مسائل کا سامنا ہوگا۔ ہر پاکستانی سفیر کے لئے یہی مسئلہ یہی رہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کو دیر پا بنیادوں پر کیسے کھڑا کرے۔ جب امریکہ کو ضرورت ہوتی ہے تو وہ پاکستان کو کسی طرح کی ٹھیکیداری دے دیتا ہے اور جب کام ختم ہو جاتا ہے تو معاشی پابندیاں لگا دیتا ہے۔ کیا جنرل کرامت اس گھیرے کو توڑ سکیں گے؟

جہانگیر کرامت
آج کل واشنگٹن میں پاکستان کا ستارہ عروج پر ہـے۔ ہر سفیر، نائب سفیر اور نائب سفیر کے نائب بھی بہت کامیاب ہیں: سب کو بغیر محنت کے واشنگٹن کے ڈرامے میں مرکزی کردار نہیں تو اہم کردار ضرور ملا ہوا ہے۔ اور ہر کوئی کندھے اچکا کر چل رہا ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ دور ختم ہو جائے گا تو پھر سے لگنے والی معاشی پابندیوں کا کون توڑ کرےگا؟ یہ وہ چیلنج ہے جس کا جنرل کرامت کو سامنا ہے۔ یا تو وہ کندھے اچکا کر وقت گزار جائیں گے اور یا پھر کوئی نئی طرح ڈالیں گے۔

اس سلسلے میں آثار اچھے نظر نہیں آ رہے۔ جنرل پرویز مشرف واشنگٹن میں جس کانگرس کاکس کا افتتاح کرنے آئے تھے وہ تمام تر دعوؤں کے باوجود کوئی خاص کامیاب نہیں ہوا۔ کاکس کے کار پردازوں کی نام نہاد دوڑ دھوپ کے باوجود امریکی کانگریس کے اڑتالیس ارکان نے کاغذ پر ممبر شپ منظور کی۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ جنرل مشرف کے آنے پر صرف دس پندرہ کانگریس مین ان سی ملنے آئے۔ کانگریس مینوں کی آسانی کے لئے کاکس کا اجتماع کانگرس بلڈنگ میں ہی کیا گیا تھا تاکہ ان کو آنے یا ان کو ’پکڑ کر لانے‘ میں دقت نہ ہو۔

پاکستان کاکس میں نیم دلی سے آنے والے 48 کانگریس مین بہت کم اور غیر موثر ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہندوستان کاکس میں 186 کانگریس مین اور 23 سینٹر شامل ہیں۔ پاکستان کاکس میں شامل بہت سے کانگریس مین ہندوستان کاکس کے ممبر ہیں اور ان کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ 1998 میں اسی طرح کا ایک پاکستان کاکس تھا جس میں 45 کانگریس مین شامل تھے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اس کاکس کو جان بوجھ کر منفعل بنا دیا تھا۔ ان کی منطق یہ تھی کہ ہندوستان کے اتنے بڑے کاکس کے سامنے اتنا چھوٹا کاکس بجائے فائدے کے نقصان کرتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ چھوٹے کاکس سے باہر سے ممبروں کو اپنے موقف پر لانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ان پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کاکس کو منفعل کرنے کا فیصلہ شاید درست تھا۔

سوال یہ ہے کہ اس فیصلے سے روگردانی کیوں کی گئی؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ کاکس نہ تو 1998 والے کاکس سے عددی اعتبار سے بہتر ہے اور نہ ہی کسی اور پہلو سے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس کو بنانے کے عمل میں کمیونٹی کے پرانے لیڈروں کو بری طرح دھتکارا گیا ہے اور پاکستانی امریکن منقسم ہو کر رہ گئے ہیں۔ پس پردہ بہت سی امریکن پاکستانی تنظیمیں سفارت خانے کے حکام کے اس رویے پر تلملا رہی ہیں۔

مثلاً پچھلے سالوں میں پاکستانی امریکن کانگریس ایسی پاکستانی تنظیم تھی جو بہت سے کانگریس مینوں کو پاکستان کے موقف سے آگاہ رکھتی تھی۔ اس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارت خانے نے ان کی تنظیم سمیت تمام کمیونٹی تنظیموں کو کنٹرول کرنے یا تباہ کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کاکس میٹنگ میں جن درجن بھر کانگریس مینوں کو وہ جنرل مشرف سے ملوانے لائے تھے ان کو اس لئے نظر انداز کیا گیا کہ وہ ایسی تنظیم کے حوالے سے آئے تھے جو سفارت خانے کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کمیونٹی جتنی آج منقسم ہے اتنی کبھی نہیں تھی۔ اگر ان کی باتوں میں آدھی سچائی بھی ہے تو اس کا مستقبل میں بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ ابھی تو بش بہادر مہربان ہیں، رائے بہادر رمزفیلڈ خان کی نظر عنایت ہے اور ہمارے بے سُرے باجے بھی دلکش راگ سمجھ کر سُنے جا رہے ہیں۔ لیکن کل کیا ہو گا جب پابندیاں لگنے کا وقت آئے گا؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب جنرل کرامت کو ڈھونڈنا ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد