BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 November, 2004, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شوکت عزیز، نٹور سنگھ ملاقات

News image
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے ہندوستان کے وزیر خارجہ نٹور سنگھ سے مذا کرات کے ساتھ ہی اپنے دورۂ ہندوستان کا آغاز کر دیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے تقریبا 45 منٹ تک بات چیت کی۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ بات چیت میں سارک کے معاملات اور باہمی امداد کا احاطہ کیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی رہنما نے کہا کہ ان کے ساتھ جو اعلی اختیاراتی وفد آیا ہے وہ اس امر کا غماز ہے کہ وہ امن کے عمل کے لیے انتہائی سنحیدہ ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے آج کی بات چیت میں کمپوزٹ ڈائیلاگ میں مزید تیزی لانے کی بات کی ہے۔

حزب اختلاف کے رہنما ایل کے اڈوانی نے بھی شوکت عزیز سے ملاقات کی۔ ایل کےاڈوانی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہوں نے پاکستان جانے کی دعوت قبول کر لی ہے اور وہ آئندہ جنوری یا فروری میں پاکستان جائیں گے۔

پاکستانی وزیرِاعظم آج اٹل بہاری واجپائی سے بھی ملاقات کر رہے ہیں۔

کل جماعتی علیحدگی پسند حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے رہنما شوکت عزیز سے پاکستانی ہائی کمیشن میں ملاقات کر رہے ہیں۔ میرواعظ عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ پاکستانی وزیرِاعظم سے صدر مشرف کی تجویز کے بارے میں جاننا چاہیں گے ساتھ ہی ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لۓ وہ خود بھی انہیں تجاویز پیش کریں گے۔

شوکت عزیز سارک کے موجودہ چئیرمین کے طور پر رکن ممالک کا دورہ کر رہے ہیں اور وہ دلی میں اپنےہم منصب ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ڈھاکہ میں ہونے والے آئندہ سارک سربراہی اجلاس میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دیں گے۔

لیکن دلی میں انکی مصروفیات میں سارک سے کہیں زیادہ باہمی نوعیت کی ہیں۔شوکت عزیز ایک اعلی اختیاراتی وفد کےہمراہ دلی آ‎ئےہیں۔

ان کے وفد میں پٹرولیم و قدرتی گیس کے وزیر امان اللہ خان ، آبی وسائل اور بجلی کے وزیر لیاقت علی جتوئی ، ریلوے کے وزیر شمیم حیدر، کھیلوں اور امورِ نوجوانان کے وزیر محمد علی درانی ، بیرون ملک آباد پاکستانیوں کے وزیر طارق اعظم خان ، خارجی امور کے وزیر مملکت خسرو بختیار اور سینٹ میں ایوان کے لیڈر وسیم سجاد شامل ہیں۔

شوکت عزیز نے کہا کہ وہ ہندوستانی قیادت سے کشمیر سمیت تمام متنازعہ معاملات پر مفصل بات چیت کریں گے۔

وہ کل اپنے ہم منصب ڈاکٹر منموہن سنگھ اور پٹرولیم کے وزیر منی شنکر سے مفصل بات چیت کرنے والے ہیں۔ دلی میں قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ شوکت عزیز نہ صرف کشمیر کے سوال پر ہندوستانی قیادت سے بات چیت کریں گے بلکہ وہ انہیں صدر پرویز مشرف کی حالیہ تجاویز بھی باقاعدہ طور پر پیش کریں گے۔

سری نگر مظفرآباد بس سروس اور راجستھان سے سندھ تک ریلوے سروس شروع کرنے کے معاملات پر بھی بات چیت ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان اور ہندوستان دونوں کو پاکستان کے راستے ہندوستان تک ایران گیس پائپ لائن لانے میں گہری دلچسپی ہے اور اس پہلو پر بھی بات چیت ہوگی۔ اطلاعات یہ ہیں کہ پٹرولیم کے وزیر منی شنکر پاکستانی وزیرِاعظم پر یہ ذور دیں گے کہ پاکستان ہندوستان کو مراعات یافتہ ملک یعنی "موسٹ فیورٹ نیشن" کا درجہ دے۔

شوکت عزیز جن وزراء کے ساتھ ہندوستان آۓ ہیں وہ کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ وزراء ان محکموں کی سربراہی کر رہے ہیں جن شعبوں میں دونوں ممالک اعتماد سازی اور اشتراک و تعاون کو فروغ دینے کی باتیں کر رہے ہیں۔

کشمیر سمیت مختلف پہلوں پر بات چیت میں کیا پیش رفت ہوتی ہے یہ تو اس مرحلے پر کہنا مشکل ہے ۔لیکن اتنا ضرور ہے مسٹر عزیز اور مسٹر سنگھ دونوں ہی ماہر اقتصادیات ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے اچھی طرح واقف ہیں اور دونوں ہی حالات کو مثبت اور منفی کے پیراۓ میں دیکھتے ہیں۔ان دونوں رہنماؤں کو معلوم ہے کہ برصغیر اب مزید کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد