| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تہران: جمالی، خاتمی ملاقات
پاکستان کے وزیر اعظم ظفراللہ جمالی نے تہران کے تین روزہ دورے کے آغاز پر ایران کے صدر محمد خاتمی سے ملاقات کی ہے اور تجویز پیش کی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین چھ شعبوں میں معاہدے کئے جا سکتے ہیں جن میں شعبہ دفاع بھی شامل ہے۔ صدر خاتمی نے اپنی کابینہ کو ہدایات دی ہیں کہ ان مجوزہ معاہدوں پر غور کرنے کے بعد انہیں حتمی شکل دی جائے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے افغانستان اور کشمیر سمیت پورے علاقے کی سلامتی کے امور اور پاکستان کے راستے ایران سے بھارت تک گیس کی پائپ لائن بچھانے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران یہ طے پایا ہے کہ اب ایران اور پاکستان کے وزراءِ تجارت اور وزراءِ اطلاعات ان معاملات پر مزید گفتگو کریں گے۔ وزراء کی ملاقات آج یعنی بدھ کو متوقع ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے سیکرٹری ریاض کھوکھر کے مطابق وزیرِ اعظم جمالی نے ایران کے نائب صدر عارف سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس دورے سے پہلے ہی ظفراللہ جمالی نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کے دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کو بہتر کرنا ہے۔ وہ اپنے قیام کے دوران میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنائی سے بھی بات چیت کریں گے۔ وزیراعظم ظفراللہ جمالی کے ہمراہ وزیر اطلاعات شیخ رشید، وزیر تجارت ہمایوں اختر اور تیل اور قدرتی وسائل کے وزیر نوریز شکور بھی ہیں۔ جمالی اس ماہ کے شروع میں امریکی دورے پر بھی گئے تھے۔ افغانستان کے حوالے سے امریکہ ایران پر الزام لگاتا رہا ہے کہ اس نے طالبان اور القاعدہ کے ارکان کو پناہ دے رکھی ہے۔ تاہم ایران نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||