سینٹریفیوج: پاکستان کی تردید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کواپنے جوہری پروگرام میں استعمال شدہ سینٹریفیوج کے حصے فراہم کرے گا تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں جاری تحقیقات میں مدد مل سکے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے اس سلسلے میں چھپنے والی اخباری رپورٹس کو بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ رپورٹ میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں کسی بھی شخص کا نام نہیں ہے اور لگتا ہے کہ یہ رپورٹ کئی پرانی رپورٹوں کو ملا کر تیار کی گئی ہے۔ ادھر مذکورہ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا جوہری ادارہ آئی اے ای اے پاکستان سے حاصل شدہ سینٹرفیوج کو ٹیسٹ کرئے گا تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جا سکے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام میں استعمال ہونے والے سینٹریفوج اور ایران کے جوہری پروگرام سے حاصل ہونے والے سینریفیوج میں کوئی مماثلت ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستانی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے ایک سیمینار میں پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ڈاکٹر عبد القدیر نے ایران کو چند سینٹریفیوج فراہم کئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان اس میں ملوث نہیں ہے۔ تاہم وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس بیان پر صحافیوں کے سوال پر کہا تھا کہ وزیر کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ ملکی اور غیر ملکی سطح پر شیخ رشید کے بیان کا شدید رد عمل سامنے آیا اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے اس پر واک آؤٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر شدید مشکلات اور ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس تین دن بعد پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||