BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
F16: پاکستان خوش، بھارت ناراض
ایف سولہ
ایف سولہ طیارے پہلی مرتبہ انیس سو نواسی میں پاکستان کو دیے گئے تھے
پندرہ سال کے وقفے کے بعد امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ایف سولہ طیارے دینے کے فیصلے پر اگر پاکستان خوشی کا اظہار کیا ہے تو بھارت کی طرف سے نہایت غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ترجمان سنجے بارو نے بی بی سی کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایف سولہ طیاروں کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور طیاروں کی فروخت سے خطے میں سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا اور اسلحے کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔

دوسری طرف پاکستان کے وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے ایف سولہ طیارے دینے کے امریکی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

پاکستان کی فضائیہ کے گریجویٹس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں ہیں اور وہ اپنے ہمسائیوں کے ساتھ امن سے رہنا چاہتا ہے۔

امریکی صدر جارج بش نے جمعہ کو وزیر اعظم من موہن سنگھ سے فون پر رابط کرکے انہیں پاکستان کو ایف سولہ لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے امریکی فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔ یہ اعلان امریکہ کے پاکستان کے لیے پانچ سال کے امدادی پروگرام کا ایک حصہ ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں توازن کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ایف سولہ طیاریوں کی پیشکش بھارت کو بھی ہو سکتی ہے۔

آپکو بھی مل سکتے ہیں
 اس فیصلے سے خطے میں توازن کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ایف سولہ طیاریوں کی پیشکش بھارت کو بھی ہو سکتی ہے
امریکی ترجمان

امریکی اہلکاروں نے یہ بھی کہا کہ طیاروں کی فروخت پاکستان کے ساتھ اس طویل المدت وعدے کے مطابق ہے جو امریکہ نے گیارہ ستمبر کے بعد پاکستان کے ساتھ کیا تھا۔

صدر بش نے ایف سولہ طیارے فروخت کرنے کے علاوہ وزیر اعظم من موہن سنگھ سے کئی دوسرے معاملات پر بھی گفتگو کی تھی۔

سنجے بارو نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیل فراہم نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایف سولہ لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے امریکی فیصلے پر بھارت کا رد عمل وزیر اعظم من موہن سنگھ کے اپنی کابینہ کے رفقا سے تبادلہ خیال کے بعد جاری کیا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے حالیہ دورہ بھارت کے دوران بھی ایف سولہ طیاروں کی فروخت کے مسئلہ پر بات چیت ہوئی تھی اور بھارت کو بھی ان طیاروں کی فروخت کی تجویز زیر غور آئی تھی۔

دریں اثناء پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے پاکستان کو ایف سولہ فراہم کرنے کے امریکی انتظامیہ کےفیصلے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اس تاثر کو پر زور طریقے سے رد کیا ہے کہ امریکہ نے یہ فیصلہ پاکستان کی طرف سے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے کو سینٹریفیوجز حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد