BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 March, 2005, 08:17 GMT 13:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت کو F-16 کی فراہمی پر بات

News image
امریکہ کی وزیرخارجہ کونڈولیزارائس نے دلی میں اپنے ہم منصب نٹور سنگھ سے اقتصادی اور دفاعی تعاون پر مفصل بات کی ہے۔

مذاکرات کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں محترمہ رائس نے بتایا کہ مسٹر سنگھ سے بات چیت میں ایف 16 جنگی طیارے سمیت جنگی سازو سامان کی فروخت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ملٹری ٹو ملٹری رابطے اور مشترکہ مشقوں کے معاملے میں ہمارا دفاعی تعاون مستحکم ہے۔ امریکہ آئندہ برسوں میں اس تعاون اور اشتراک کو وسعت دینا چاہتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی دفاعی ضروریات پر وسیع مذاکرات جاری رہیں گے اور جب وہ پاکستانی قیادت سے بات چیت کریں گی تو وہ پاکستان کی تشویش اور وہاں کی دفاعی ضروریات پر بات چیت کریں گی۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر نٹور سنگھ نے کہا کہ انہوں نے کنوڈولیزا رائس کو پاکستان کے ساتھ ہونے والے ’کمپوزٹ ڈائیلاگ‘ کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا، جن میں بقول ان کے اطمنان بخش پیش رفت ہورہی ہے۔

’ ہم جلد ہی یہاں جنرل پرویز مشرف کا استقبال کرنے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔‘

امریکہ کی وزیر خارجہ نے کہا کہ نٹورسنگھ سے بات چیت میں انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں امریکہ پاکستان کے صدر اور ہندوستان کے وزیراعظم کی کوششوں کی ستائش کی نظر سے دیکھتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ہندوستان میں حکومت بدلنے کے باؤجود امن کا یہ عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ اور تیز ہوا ہے اور امریکہ جس طرح بھی ممکن ہو اس عمل کی حمایت کرتا ہے۔‘

ہندوستانی قیادت سے بات چیت میں افغانستان اور عراق کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ محترمہ رائس نے مزید بتایا کہ امریکہ نے ایران ہند گیس پائپ لائن کے سلسلے میں اپنے تحفظات اور تشویش سے ہندوستان کو آگاہ کردیا ہے۔ اس کے جواب میں ہندوستان نے کہا ہے کہ ایران ان کا ایک روایتی دوست ملک ہے اور اس سے یہ توقع ہے کہ وہ نیوکلیائی معاملات میں مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کریگا۔

اقوام متحدہ میں مجوزہ اصلاحات کے سلسلے میں سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کے دعوے کی حمایت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کنوڈولیزا رائس نے کہا کہ اصلاحات کی بات چیت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد