شام رکاوٹ ہے: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا ائس نے کہا ہے کہ شام کی جانب سے اپنے پڑوسی ممالک کے معاملات میں دخل اندازی کے سبب خطے میں تبدیلیوں میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ انہوں نے مختلف مقامات پر انٹرویو میں کہا کہ عالمی سطح پر اب سمجھا جا رہا ہے کہ شام ان تبدیلیوں کی راہ میں رکاوٹ ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادی مشرق وسطیٰ میں لانا چاہتے ہیں۔ کونڈولیزا رائس نے شام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شام امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے شام پر الزام لگایا کہ وہ لبنان ، عراق اور فلسطینیوں کی خواہشات کے درمیان کھڑا ہے۔ دریں اثناء شام کے صدر نے کہا ہے کہ چند ماہ کے اندر اندر شام لبنان سے اپنی افواج واپس بلا لے گا۔ کونڈولیزا رائس نے لبنان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کی اپیل کی جہاں شام کی حمایت والی حکومت نے دو ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد پیر کواستعفیٰ دے دیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ جب آپ یہ سوچتے ہیں کہ شام لبنان میں کیا کر رہا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ لبنانی سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں اور شام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ان کے ملک کو چھوڑ کر جائے تاکہ وہ اپنا مستقبل خود بنا سکیں۔ شام کا لبنان میں فوجی عمل دخل 1976 میں شروع ہوا تھا۔ 1990 میں لبنان میں خانہ جنگی کو ختم کرکے امن قائم کرنےمیں شام کی افواج نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ شام کی افواج کو نکالنے کا مطالبہ اس وقت زور پکڑ گیا جب 2000 میں اسرائیلی افواج کو واپس بلایا گیا۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ لبنان سے تمام غیر ملکی افواج ستمبر 2004 تک واپس بلا لی جائیں۔ کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ امریکہ شام پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ لبنان سے اپنی افواج اور سکیورٹی گروپ دونوں واپس بلائے۔ شام کے صدر بشر الاسد نے ٹائم میگزین سے کہا ہے کہ اگلے چند ماہ میں لبنان سے افواج واپس بلا لی جائیں گی۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ لبنان اور خود شام کی سکیورٹی کی صورتِ حال پر منحصر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں، اب وہاں فوج ہے ، ادارے ہیں اور حکومت ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ لبنان سے فوج واپس بلاکر ہمیں اپنی سرحدوں کو مضبوط اور محفوظ کرنا ہوگا۔ شام کے صدر نے کہا کہ ہمیں اپنی سرحدوں کے بارے میں بات کرنی ہوگی کیونکہ جب 1982 میں اسرائیل نے حملہ کیا تھا تو وہ دمشق کے بہت نزدیک آگئے تھے۔ ادھر کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ شام عراق میں شدت پسندی کو بڑھاوا دے رہا ہے جو عراقی عوام کی خواہشات میں ایک بڑی روکاوٹ ہے جنہوں نے بہتر زندگی اور بہتر دنیا کے لیے ووٹ دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||