بیروت میں شام مخالف مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رفیق حریری کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے کی غرض سے ہزاروں مظاہرین بیروت میں جمع ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے شام کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے اسے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ حزب اختلاف نے مظاہرین سے دس بجکر پچپن منٹ پر پانچ منٹ کی خاموشی کا مطالبہ کیا کیونکہ حریری اسی وقت کیے گئے دھماکے کی زد میں آئے تھے۔ شہر کے مرکز میں متعدد علاقوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور شہر میں آنے والے راستوں پر ناکے لگا دیئے گئے ہیں۔ عرب لیگ کے سربراہ امر موسیٰ نے کہا ہے کہ شام عنقریب لبنان سے اپنی فوجوں کی واپسی کے لیے اقدامات کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام کی افواج کی واپسی انیس سو نواسی میں لبنان میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کے تحت ہو گی۔
امر موسیٰ نے یہ بیان شام کے صدر بشر الاسد کے ساتھ دمشق میں ملاقات کے بعد دیا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حریری کے قتل کے بعد لبنان میں شام کے عمل دخل کے حوالے سے تناؤ میں اضافہ ہوا ہے اور شام پر بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھ گیا ہے کہ وہ لبنان سے اپنی فوج واپس بلا لے۔ لبنان کی شام نواز حکومت نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرے گی لیکن اس نے ایک بین الاقوامی انکوائری کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||