بیروت سے شامی فوجی کی واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام کی فوجوں نے جو عرصۂ دراز سے لبنان میں تعینات ہیں، اپنی سرحد کی طرف واپس جانا شروع کر دیا ہے۔ لبنان میں فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ ازسرِ نو تعیناتی کے پہلے مرحلے میں تین ہزار کے قریب فوجیوں کو لبنان سے شام کی سرحد کی طرف واپس بلایا گیا ہے۔ لبنان میں شام کے سترہ ہزار فوجی موجود ہیں۔ بیروت کے جنوب مشرق میں شامی فوج نے اپنے اڈے ختم کیے ہیں جہاں سے وہ بیکا کی وادی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ شام نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ اپنی فوج کو بیکا وادی میں ہی رہنے دے گا یا لبنان سے مکمل طور پر نکل جانے کو کہے گا۔ اس ماہ کے اوائل میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے مطالبہ کیا تھا کہ تمام غیر ملکی فوجیں لبنان سے نکل جائیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندے ولیم برنز نے بھی شام سے کہا ہے کہ لبنان کے اندرونی معاملات میں اپنی مداخلت بند کرے۔ بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شام کا اپنی فوج کو ازسرِ نو تعینات کرنے کے فیصلے سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا مطمئن ہونا اس وقت تک ممکن نظر نہیں آتا جب تک یہ واضح نہ ہوجائے کہ تین ہزار شامی فوج کا لبنان سے نکلنا مکمل طور پر فوجی انخلاء کا حصہ ہے۔ شام کی فوج نے انیس سو چھہتر میں پہلی مرتبہ لبنان کی خانہ جنگی میں مداخلت کی تھی۔ دونوں ممالک نے باہمی تعلقات پر بیرونی دباؤ کو مسترد کر دیا ہے۔ لبنان کے وزیرِ دفاع محمود حمود نے شام کے دفاعی اہلکاروں سے بات چیت کے بعد کہا ہے کہ شام کے لبنان سے فوج باہر نکالنے کے فیصلے سے دکھائی دیتا ہے کہ لبنان میں صورتِ حال مستحکم ہو رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان اگلے دو ہفتوں میں سلامتی کونسل کو رپورٹ پیش کریں گے جس میں بتایا جائے گا کہ آیا قرارداد 1559 پر عمل ہوا ہے یا نہیں۔ شام سے متعلق قرارداد جسے امریکہ اور فرانس کی حمایت حاصل ہے ، مطالبہ کرتی ہے کہ لبنان کی آزادی کا احترام کیا جائے اور یہ کہ شام سے تمام غیر ملکی فوجیں باہر چلی جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||