BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان میں تبدیلی، امریکہ کا خیرمقدم
News image
حکومت کے استعفے کا اعلان لبنان کے سرکاری ٹیلیوژن پرکیا گیا
لبنان میں وزیراعظم عمر کرامی کی حکومت کے مستعفی ہو جانے کے باوجود حزب اختلاف نے لبنان سے شامی فوج کے انخلاء تک ملک میں احتجاجی مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ ملک سے شامی فوجوں کا فوری طور پر انخلاء چاہتے ہیں۔ لبنان میں گزشتہ تیس سال سے شام کی فوج موجود ہے۔

اس سے قبل لبنان میں وزیرِاعظم عمر کرامی کی حکومت کے استعفیٰ کا امریکہ نے خیر مقدم کیا تھا جبکہ شام کی حکومت نے اس کو لبنان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ میکلینن نے عمر کرامی کی حکومت کے مستعفی ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے لبنان کے عوام کے لیے ایک موقع قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب حکومت پر آزادانہ اور غیر جانبدارنہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کے عوام بھی لبنان میں انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات بیرونی مداخلت سے آزاد ہونے چاہئیں۔

سکاٹ میکلینن نے کہا کہ شام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے لبنان سے اپنی فوجوں اور خفیہ اہلکاروں کو فوراً واپس بلا لینا چاہیے۔

دمشق سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شام کی حکومت لبنان میں ہونے والی اس سیاسی تبدیلی پر خاموش ہے۔ تاہم ایک سرکاری اہلکار نے اسے لبنان کا اندورنی معاملہ قرار دیا۔

مبصرین کے مطابق لبنان میں ہونے والی اس سیاسی تبدیلی شام کی حکومت کے لیے یقیناً پریشان کن پیش رفت ہے۔ لبنان میں مستعفی ہونے والی حکومت کو شام کی حمایت حاصل تھی اور لبنان کے موجودہ صدر کو بھی شام کی حمایت حاصل ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کے شام اس بات پر یقیناً مضطرب ہو گا کہ آئندہ حکومت کہیں لبنان سے شام کی پندرہ ہزار فوج کے فوری انخلاء کا مطالبہ نہ کر دے۔

لبنان میں حکومت کے مستعفی ہونے سے قبل شام کی طرف سے فوجوں کے انخلاء کے بارے میں مبہم بیانات سامنے آئے تھے۔ پہلے انہوں نے فوج کے انحلاء پر رضامندی ظاہر کر دی تھی لیکن بعد میں شام کی حکومت نے اپنا بیان بدل لیا تھا۔

عمر کرامی نے اپنی حکومت کے استعفے کا اعلان لبنان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر کیا تھا۔

یہ اعلان سنتے ہی بیروت میں پارلیمان کے باہر جمع ہزاروں مظاہرین نے خوشی میں نعرے لگائے اور حکومت کے جانے پر خوشی کا اظہار کیا۔

استعفے کا اعلان کرتے ہوئے عمر کرامی نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی حکومت ان لوگوں کی راہ میں رکاوٹ بنے جو لبنان کی بہتری چاہتے ہیں۔

مسٹر کرامی کے اس اعلان سے پارلیمان کے سپیکر نبیہہ برّی بھی حیران نظر آتے تھے۔

یہ مظاہرین حکومت کی طرف سے پابندی کے باوجود دارالحکومت بیروت میں پارلیمان کے باہر ایک چوک میں جمع تھے اور بڑی بڑی ٹی وی سکرینوں پر پارلیمان کی کارروائی براہ راست دیکھ رہے تھے۔

ان مظاہرین میں شامل ایک خاتون امیرہ صلاح نے کہا کہ ان کے تین مطالبات ہیں۔ ’پہلا یہ کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے سابق وزیر اعظم رفیق حریری اور چودہ دیگر افراد کو کس نے قتل کیا۔ دوسرا ہم چاہتے ہیں کہ یہ حکومت استعفی دے کیونکہ یہ عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔اور تیسرا یہ کہ ہم معاہدہ طیف کا نفاذ چاہتے ہیں جس کے تحت شام لبنان سے اپنی افواج واپس بلائے۔‘

اگرچہ حزب اختلاف نے حکومت کے استعفی کا خیر مقدم کیا ہے اور لبنان سے شام کی افواج کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ یہ واپسی باعزت ہونی چاہیے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب نہیں ہونے چاہیں۔

حزب اختلاف دروز کے رہنما والید جنبلت نے کہا کہ ان کا موقف یہ ہے کہ شام کا سرکاری مشن تھا لبنان کو ٹوٹنے سے بچانا۔ وہ مشن اب پورا ہو گیا ہے۔ اسکے علاوہ شام کا قومی اسلامی مزاحمت کی حمایت کرنے کا مشن بھی پورا ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان اور شام ساتھی ہیں۔ لبنان شام کا دشمن نہیں بنے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انیس سو اٹھاون اور انیس سو بیاسی میں جب کچھ لوگوں نے لبنان کو شام کے دشمنوں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی تو شام کا دفاع کرنے میں وہ پیش پیش تھے۔

لبنان میں یہ سب ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب چودہ فروری کو سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے گاڑیوں کے قافلے کے پاس بم پھٹنے سے مسٹر حریری سمیت پندرہ افراد ہلاک ہو گئے۔

مسٹر کرامی کی حکومت اور شام کی حکومت دونوں ہی پر یہ الزامات لگائے گئے ہیں کہ وہ اس حملے میں ملوث ہیں۔ اس الزام کی دونوں حکومتوں نے تردید کی ہے۔

جس وقت وزیر اعظم عمر کرامی نے اپنے استعفے اور اپنی کابینہ توڑنے کا اعلان کیا اس وقت لبنانی پارلیمینٹ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کر رہی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد