لبنان میں حکومت کا استعفیٰ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں وزیرِ اعظم عمر کرامی کی شام نواز حکومت نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ عمر کرامی نے اپنی حکومت کے استعفے کا اعلان لبنان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر کیا۔ یہ اعلان سنتے ہی بیروت میں پارلیمان کے باہر جمع ہزاروں مظاہرین نے خوشی میں نعرے لگانے شروع کردیئے اور حکومت کے جانے پر خوشی کا اظہار کیا۔ جس وقت وزیر اعظم عمر کرامی نے اپنے استعفے اور اپنی کابینہ توڑنے کا اعلان کیا اس وقت لبنانی پارلیمینٹ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کر رہی تھی۔ عمر کرامی نے کہا: ’میں چاہتا تھا کہ حکومت اُن لوگوں کی راہ میں نہ آئے جو لبنان کی بہتری چاہتے ہیں۔‘ لبنان کے صدر امیل لحود نے حکومت کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے اور وزیر اعظم عمر کرامی سے کہا ہے کہ وہ عبوری حیثیت سے کام جاری رکھیں۔ اپنے رد عمل میں شام نے حکومت کے استعفے کو لبنان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔ دو ہفتے قبل ایک بم دھماکے میں سابق وزیرِ اعظم رفیق حریری کی ہلاکت کے بعد سے لبنان سیاسی بحران کا شکار تھا۔ سابق وزیرِ اعظم کی ہلاکت کا الزام شام پر عائد کیا گیا تھا لیکن شامی حکومت نے بارہا اس الزام کی تردید کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||