نوآبادیاتی نظام کا ورثہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام اور لبنان کا قضیہ کیا اسے سمجھنے کے لیے اور اس بات کے ادراک کے لیے کہ لبنان پر شام کا سیاسی اور فوجی تسلط کیوں ہے ، صدیوں پرانی تاریخ کو کھنگالنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہی سو سال سے بھی کم پرانی تاریخ پر نظر ڈالنا کافی ہے- پہلی عالم گیر جنگ سے قبل شام اور لبنان سلطنت عثمانیہ کے حصے تھے اور حلب ، دمشق اور بیروت کی ولایتیں کہلاتے تھے بالکل اسی طرح جیسے جزیرہ نما عرب ، موجودہ عراق اور فلسطین سلطنت عثمانیہ کی حکمرانی میں تھے- پہلی عالم گیر جنگ میں سلطنت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا اور اس جنگ میں شکست کے نتیجہ میں سلطنت عثمانیہ کو سزا اس کے حصے بخرے کر کے اور اسے مسمار کر کے دی گئی- برطانیہ اور فرانس نے ترک سلطنت کے حصے بخرے کرکے آپس میں بانٹنے کا منصوبہ انیس سو سولہ کے اس خفیہ معاہدہ میں طے کیا گیا تھا جو سائیکس – پیکوٹ اگریمنٹ کہلاتا ہے- اس معاہدہ کے تحت شام اور لبنان پر فرانس نے قبضہ جمایا اور برطانیہ نے فلسطین اور نئے وضع کردہ ملکوں عراق اور اردن پر تسلط جمایا- گو بظاہر برطانیہ اور فرانس کے مابین ان علاقوں کے تقسیم اور کنٹرول پر مفاہمت ہو گئی تھی لیکن یہ دونوں طاقتیں ایک دوسرے کے زیر اثر علاقوں میں بغاوتوں کو شہہ دے رہی تھیں- برطانیہ نے والی مکہ شریف حسین کے بیٹے امیر فیصل کو جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی تھی پہلے دمشق میں عرب سلطنت کے قیام کے اعلان پر اکسایا لیکن جب فرانسسی فوجوں نے امیر فیصل کی اس تحریک کو کچل دیا اور انہیں دمشق سے فرار ہونا پڑا تو برطانیہ نے امیر فیصل کو بغداد لا کر نئے ملک عراق کا بادشاہ بنا دیا- اس دوران فرانس نے شام اور لبنان پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے یکم ستمبر انیس سو بیس کو بیروت کی ولایت میں ایک الگ ُ عظیم تر لبنانُ کی مملکت کے قیام کا اعلان کیا جس کا دارالحکومت بیروت قرار دیا گیا اور پرچم بھی فرانسسی ترنگا ہی اختیار کیا گیا۔فرق صرف یہ ہے کہ اس پر صنوبر کا درخت نقش ہے- لبنان کو الگ مملکت بنانے کا اصل مقصد فرانسسیوں کا یہ تھا کہ اس پورے علاقے میں عرب قوم پرستی کا زور ختم کیا جائے اور اس مقصد کے لیے بیروت کی ولایت کے بااثر مارونی عیسائیوں کی حمایت حاصل کی جائے- لبنان کی نئی مملکت کو خاص طور پر اس انداز سے وضع کیا گیا کہ اس میں مارونی عیسائیوں کو شیعوں اور دروزوں کے مقابلہ میں اکثریت حاصل ہو- اب بھی لبنان میں مارونی عیسائیوں کو سیاسی غلبہ حاصل ہے- ادھر شام میں فرانسیسی تسلط کے خلاف انیس سو پچیسں میں بڑے پیمانہ پر عرب قوم پرست بغاوت بھڑک اٹھی جس کو کچلنے کے لئے فرانس نے دمشق پر شدید بمباری کی- آخر کار فرانس کو شام کو آزادی دینی پڑی لیکن چھ سال تک خونریزی اور وعدوں وعید کے بعد اور اسی کے ساتھ فرانس کو لبنان پر بھی اپنا تسلط سن پینتالیس میں ترک کرنا پڑا- لبنان کی سیاست میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب اسرائیل کے قیام کے بعد بڑی تعداد میں اپنے وطن سے بے دخل ہونے والے فلسطینیوں کو لبنان میں پناہ لینی پڑی- لبنان کے قوم پرستوں نے ان فلسطینیوں کا ساتھ دیا اور انہوں نے مل کر لبنان میں مغرب نواز حکمران عناصر کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جس نے خونریز خانہ جنگی کی شکل اختیارکر لی- اسی دوران سن انیس سو چہتر میں شام نے فوجی مداخلت کی- یہ ستم ظریفی ہے کہ اس وقت شام کی اس مداخلت کو امریکا کی بھر پور حمایت اور آشیرباد حاصل تھی کیونکہ امریکا لبنان میں بائیں بازو کے اثرو نفوذ سے سخت خائف تھا- لیکن لبنان کی خانہ جنگی میں بائیں بازو کی شکست کے فورا بعد لبنان کے حکمران مارونی عیسائی شام کے خلاف ہو گئے اور انہوں نےاسرائیل سے گٹھ جوڑکر لیا جس کے بعد اسرائیل نے سن اٹہتر اور سن بیاسی میں لبنان پر حملے کیے- آخر کار عرب ممالک کی مداخلت اور مصالحت کے نتیجہ میں طائف سمجھوتہ طے پایا اور لبنان کی خانہ جنگی ختم ہوئی- اسی سمجھوتہ کے تحت یہ طے پایا تھا کہ شام لبنان سے بتدریج اپنی فوج واپس بلالے گا لیکن اس کے باوجود شام کی فوجیں لبنان میں تعینات رہیں اور لبنان پر شام کا اثر بھی غالب رہا- خلیج کی جنگ تک شام، روس کا حلیف تھا لیکن صدر حافظ اسد نے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر خلیج کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا- شام کو توقع تھی کہ انعام کے طور پر امریکہ جولان کی پہاڑیوں کے علاقہ سے اسرائیل کے انخلاء پر دباو ڈالے گا اوریہ علاقہ شام کو واپس مل جائے گا جو سن سڑسٹھ کی جنگ میں وہ گنوا بیٹھا تھا- لیکن اسرائیل یہ علاقہ چھوڑنے کے لیے قطعی تیار نہیں ایک تو یہ فوجی لحاظ سے بے حد اہم ہے پھر یہ معدنیاتی دولت سے مالا مال ہے- چنانچہ اسرائیل نے شام پر یہ الزام لگا کر بساط الٹ دی کہ دمشق اسرائیل میں حملہ کرنے والے شدت پسندوں اور خودکش بمباروں کی مدد اور اعانت کر رہا ہے۔ اور عراق کی جنگ کے بعد اب اسرائیل نے یہ الزام لگانا شروع کر دیا ہے کہ شام عراق میں مزاحمت کاروں کی مدد کر رہا ہے۔ پچھلے دنوں بیروت میں لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد امریکا نے لبنان سے شامی فوجوں کے انخلاء کا پر زور مطالبہ کیا ہے جس میں برابر شدت آتی جارہی ہے- مبصرین کے خیال میں لبنان کے بحران کے نتیجہ میں شام کے خلاف امریکہ کی فوجی کارروائی کا شدید خطرہ ہے۔ ان کی یہ بھی رائے ہے کہ اس فوجی کارروائی سے بیک وقت امریکہ اور اس کے دوسرے اتحادی ملکوں کے مقاصد حاصل ہو جائیں گے- اول- لبنان پر شام کا سیاسی اور فوجی اثر ختم ہو جائے گا- سوم- اسرائیل باسانی شام کو اپنی شرائط پر جولان کے مسلہ پر معاہدہ کرنے اور حتمی امن سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر سکے گا- چہارم- عراق ُمیں مزاحمت کاروں کی اگر واقعی شام ان کی مدد کر رہا ہے ، کمر ٹوٹ جائے گی- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||