’وردی نہیں، جمہوریت پر بات‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے دورے کے دوران وہاں جمہوری اصلاحات کے بارے میں بات کریں گی۔ امریکی وزیر خارجہ نے صدر پرویز مشرف کوفوجی سربراہ کا عہدہ چھوڑے کا وعدہ یاد دلانے کے بارے میں کیے گئے کا سوالات کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹریو دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے جنرل مشرف کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے شدت پسندی کو قابو کرنے اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بات چیت شروع کرنے کے اچھے اقدامات کیے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ اس ماہ کی سترہ تاریخ کو پاکستان کا دو روزہ دورہ کریں گی۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس بات کو ذہن میں رکھنا بہت ہی ضروری ہے کہ پچھلے تین چار سالوں میں وہاں کیا کچھ ہوا ہے۔ اپنے ایشیا کے دورے کے دوران کونڈولیزا رائس ا نڈیا، افغانستان، چین، جاپان، اورجنوبی کوریا کا دورہ کریں گی۔ رسمی مذاکرات کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز سے بھی ملاقات کریں گی۔ ایک امریکی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پرخبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا کہ وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اپنے دورے کے دوران صدر مشرف کی القاعدہ کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر توجہ مرکوز رکھیں گی۔ بش انتظامیہ کا خیال ہے کہ پاکستان میں صدر جنرل مشرف کا کوئی نعم العبدل موجود نہیں ہے جو دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کا اس طرح ساتھ دے سکے جس طرح جنرل مشرف نے دیا ہے۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||