وردی نہیں اتاروں گا: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا ہے کہ وہ اکتیس دسمبر کے بعد بھی فوجی وردی نہیں اتاریں گے۔ پہلی بار کھل کر انہوں نے یہ اعلان سندھی زبان کے سیٹلائیٹ ٹی وی چینل’ کے ٹی این‘ کو کراچی میں انٹرویو دیتے ہوئے کیا ہے۔ حکومت اور حزب مخالف کی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل میں گزشتہ سال ہونے والے سمجھوتے میں یہ طے ہوا تھا کہ اکتیس دسمبر سن دوہزار چار تک صدر جنرل پرویز مشرف فوجی عہدہ چھوڑ دیں گے۔ اس معاہدے کے بعد صدر نے خود بھی ریاستی ٹی وی چینل پر قوم سے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ وہ اکتیس دسمبر تک آرمی چیف کا عہدہ چھوڑدیں گے۔ صدر نے کہا ہے کہ ملکی حالات اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ان کا فوجی عہدہ رکھنا ضرروی ہے اور وہ اس ضمن میں چند دنوں میں قوم سے خطاب کریں گے اور اسے اعتماد میں لیں گے کہ ایسا کیوں ضروری ہے؟ حکمران اتحاد نے پارلیمان سے سادہ اکثریت سے ایک قانون بھی منظور کرایا ہے جس میں جنرل پرویز مشرف کو یہ قانونی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جب تک صدر کے عہدے پر فائز ہیں اس وقت تک آرمی چیف کا عہدہ رکھنے کے بھی مجاز ہیں۔ ’کے ٹی این‘ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ جو لوگ بھی فوجی وردی کے مخالف ہیں وہ جمہوریت کے مخالف ہیں۔ پیپلز پارٹی کے مسلسل آٹھ سال قید کاٹنے کے بعد عدالت اعظمیٰ سے ضمانت کی منظوری کے بعد رہا ہونے والے آصف علی زرادی کی رہائی کے متعلق سوال پر صدر نے کہا ہے کہ ان کی رہائی کسی ’ڈیل‘ یا ثالثی کا نتیجہ نہیں بلکہ عدالتی حکم کی وجہ سے عمل میں آئی۔ صدر نے کہا ہے کہ وہ خواہشمند ہیں کہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف ان کی خارجہ پالیسی کی حمایت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر حکومت بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے انہیں مثبت امیدیں ہیں اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی سے ماحول بہتر ہورہا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف بلوچستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد صوبہ سندھ پہنچے ہیں اور انہوں نے اپنے اس دورے کا مقصد متنازعہ کالا باغ ڈیم کے لیے رائے عامہ ہموار کرنا بتایا ہے۔ مقررہ مدت تک فوجی وردی اتارنے کے لیے مجلس عمل نے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر رکھا ہے اوروہ اب تک کراچی اور لاہور میں دو جلسے بھی کر چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||