’وردی اتارنے کا سوچیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ وسیع تر قومی مفاد کی صورت ہی میں وردی اتارنے کے اپنے وعدے کو پورا کریں گے۔ برطانیہ سے شائع ہونے والے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کو ایک انٹرویو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ وہ وقت آنے پر قوم کے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ وردی اتار دیں یا پھر فوج کی کمان کو اپنے ہاتھ ہی میں رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر اس وعدہ کو پورا کرنے کا کوئی اخلاقی دباؤ نہیں ہے۔ حزب اختلاف کی مذہبی جماعتوں کی طرف سے اس ضمن میں دیے جانے والے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل نے بھی اپنے وعدوں سے انحراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل نے انہیں اعتماد کا ووٹ دینے اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بل کی حمایت کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کو انہوں نے پورا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا متحدہ مجلس عمل کے انحراف کے بعد ان پر بھی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ وردی اتارنے کے اپنے وعدے کو پورا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کے دو پہلو ہیں، ایک آئین کی پاسداری کا دوسرا وسیع تر قومی مفاد کا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ان دونوں پہلؤں پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ یہ فیصلہ کب کیا جائے گا تو انہوں نے کہا یہ فیصلہ دسمبر کے قریب ہی کیا جائے گا۔ انہوں نےاس بات کی تردید کی کہ وہ اگست میں اس بارے میں حتمی فیصلہ کرنے والے ہیں۔ اس مسئلہ پر ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ ایوب خان کی طرح فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ’ میں اپنے آپ کو ترقی دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘ قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وانا آپریشن کے نتیجے میں القاعدہ ملک کے دوسرے حصوں میں انتقامی کارروائی کر سکتا ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور ان کے حامیوں کے خلاف فوجی آپریشن کے نتیجہ میں دہشت پسند ملک کے دوسرے حصّوں میں اہم شحضیات اور تنصیبات کو بموں اور حملوں سے نشانہ بنا سکتے ہیں اس لیے ہمیں حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دوسرے قبائلی علاقوں میں اس طرح کے آپریشن کا امکان بہت کم ہے اس لیے کہ ہم نے وہاں پر مناسب پالسی اختیار کی تھی۔ صدر مشرف نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ آپریشن دوسرے قبائلی علاقوں تک نہیں پھیلے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہم نے سیاسی راستہ اپنایا جس کے نتیجہ میں جرگے نے لشکر بنایا اور کارروائی کی لیکن وہ کوئی مثبت اقدام کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد وہاں پر فوجی کارروائی کی گئی۔ انہوں نے اس فوجی آپریشن کو کامیاب قرار دیا تاہم کہا کہ اس مرحلے پر اس کے نتائج کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا اس لیے کہ یہ آپریشن ابھی جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||