’وعدہ تو کیا تھا پر مسئلہ اس سےبڑا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی قیادت ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کر رہی ہے اور اگر انہوں نے وردی اتار دی تو ہو سکتا ہے کہ انکا قومی ’نشاطِ ثانیہ‘ ختم ہو جائے گا۔ یہ بات انہوں نے امریکی اخبار ’دی نیو یارک ٹائمز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے پاکستان کے بڑے جوہری سائنسدان کے نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے لیکن ابھی تک اس نیٹ ورک کے پھیلاؤ کا پوری طرح علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہاں میں نے وعدہ کیا تھا‘ کہ میں 31 دسمبر تک وردی اتار دوں گا۔ ’لیکن مسئلہ اب اس سے کہیں بڑا ہے‘۔ اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے القاعدہ کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ 600 کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، شہروں میں اس نیٹ ورک کے ناجائز چندہ اکٹھا کرنے کا خاتمہ کیا گیا ہے اور دور دراز سرحدی علاقوں میں اس کے ٹھکانوں کو ختم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سب باتوں کے لیے اِن کوششوں کا جاری رہنا ضروری ہے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ ابھی تک انہوں نے فیصلہ نہیں کیا کہ وہ دسمبر 31 کے بعد بھی آرمی چیف رہیں گے یا نہیں۔ تاہم انہوں نے سوال کیا کہ ’کس طرح جنرل ڈی گال کافی عرصے تک یونیفارم میں فرانس کے صدر رہے اور اسکے باوجود فرانس ایک جمہوری ملک ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے 600 گرفتار ہونے والے افراد میں ازبک، چیچن، یمنی، دیگر عرب، تنزانیہ، جنوبی افریقہ اور چین سے آئے ہوئے لوگ بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز سے ایک انٹرویو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ’فی الوقت ہم دہشت گردی کا صرف سطحی اور فوجی نقطہ نظر سے مقابلہ کر رہے ہیں جس سے فوری نتائج سامنے آتے ہیں۔ لیکن ہم دہشت گردی کی اصل جڑ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کی اصل وجہ پر توجہ دی جائے گی بصورت دیگر ہم کبھی نہیں جیتیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم لڑائی تو جیت جائیں لیکن ہم اصل جنگ ہار جائیں گے۔‘ صدر پاکستان نے کہا کہ شدت پسند گروہ سیاسی تنازعات سے اکتائے ہوئے غریب اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو باآسانی اپنی طرف مائل کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر وسیع پیمانے پر ہمدردی پائی جاتی ہے۔ جبکہ امریکہ کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کا حامی اور مسلمانوں کا قطعی مخالف ہے۔ اس لیے میرے خیال میں اس تاثر کو ختم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے اور القاعدہ کے بچے کھچے ارکان کی تلاش کے سلسلے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان کی کوششیں کارگر رہی ہیں اور بدستور جاری ہیں۔ البتہ انہوں نے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ پاکستان کے داخلی امور کے حوالے سے صدر جنرل مشرف نے کہا کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پائے ہیں اور آئندہ چند ماہ میں اس امر کے بارے میں بھی کوئی اعلان کریں گے۔ نیویارک سے بی بی سی اردو سروس کے شاہ زیب جیلانی نے بتایا ہے کہ امریکہ کے صدر جارج بش بائیس ستمبر کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار، قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی کارروائیوں، پانچ سو شدت پسندوں کی گرفتاری، انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں، ملک میں مدرسوں کے سلسے میں کی جانے والی اصلاحات اور اقدامات، پاک بھارت مذاکرات، ایٹمی عدم پھیلاؤ کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں، پاکسستان کے لیے اقتصادی اور فوجی امداد کے علاوہ عراق اور پاکستان کے آئندہ کردار جیسے معاملات پر غور کیا جائے گا۔ صدر بش سے ملاقات کے بعد صدر مشرف اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔ صدر مشرف بدھ کو واشنگٹن جائیں گے جہاں وہ پاکستان کے کانگریسی کاکس کا افتتاح کریں گے۔ صدر مشرف واشنگٹن ڈی سی میں ہی پاکستانی کمیونٹی کے ایک اجتماع میں شرکت کریں گے۔ اس کے بعد تئیس ستمبر کو صدر مشرف اقوام متحدہ میں اخبار نویسوں سے گفتگو کریں گے اور کونسل آف فارن ریلیشنز کے ایک ظہرانے میں شرکت کریں گے۔ وہ جمعہ کو ہندوستان کے وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات بھی کرنے والے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||