واشنگٹن: مشرف مخالف مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران واشنگٹن میں ورلڈ سندھی انسٹیٹوٹ نے بائیس ستمبر کو ان کے خلاف مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ورلڈ سندھی انسٹیٹوٹ نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں بائیس ستمبر کو ’مزید ٹوٹے ہوئے وعدے نہیں، فوجی ڈکٹیٹرشپ ختم کرو‘ کے عنوان سے پاکستان کے باوردی صدر کے خلاف احتجاجی ریلی منعقد کی جائے گی جس میں رسول بخش پلیجو جیسے سندھی اور بلوچ قوم پرست رہنماؤں اور جلاوطن سیاسی کارکنوں کے علاوہ واشنگٹن ڈی سی اور اس کے اردگرد کے شہروں اور ریاستوں میں مقیم سندھی خاندانوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت کی توقع کی جا رہی ہے۔ واشنگٹن میں گزشتہ چھ سالوں سے سرگرم تنظیم ورلڈ سندھی انسٹیٹوٹ نے مزید کہا کہ ’بار بار اپنے وعدوں کے باوجود حال ہی میں صدر مشرف نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے آرمی چیف کے عہدے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ اور نہ ہی وہ ملک میں سیاسی اصلاحات کی اجازت دیں گے۔‘ انسٹیٹوٹ کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیے پر ’مشرف کرسی چھوڑ دو، جمہوریت ’اِن‘ فوج ’ آؤٹ‘ جیسے نعرے درج ہیں۔ ورلڈ سندھی انسٹیٹیوٹ یا ڈبلیو ایس آئی کے حمایتی مشرف حکومت کی طرف سے سندھ اور بلوچستان میں کی جانے والی کارروائیوں کے خلاف بھی احتجاج کریں گے۔ پہلی اکتوبر کو واشنگٹن میں منعقد ہونے والی ورلڈ سندھی انسٹیٹوٹ کی پانچویں سالانہ کانفرنس کا موضوع بھی ’پاکستان میں فوجی راج: سندھ میں جھموریت، انسانی حقوق اور امن کو چیلنج‘ ہے۔ اس کانفرنس کے اہم مقررین میں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی، سندھی سیاستدان رسول بخش پلیجو، بلوچستان سے منتخب سینیٹر ثناء اللہ بلوچ، بلوچستان میں گوریلا جنگ اور قوم پرست سیاست اور جنوب مغربی ایشیا پر مبنی تحقیق کے حوالے سے پہچانے جانے والے امریکی سیلگ ہیریسن اور سندھی شاعرہ عطیہ داؤد کے علاوہ امریکی کانگرس کے ریپبلکن رکن ٹام ٹینکریڈو، ڈیموکریٹک رکن ایف ایچ فالیوماویگا شامل ہیں۔ سندھ کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے اعتراف میں ٹام ٹینکریڈو کو ’شاہ سچل سامی‘ ایوارڈ بھی دیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||