’بھارت سے کھُلے ذہن سے بات ہوگی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ کھلے ذہن سے تمام امور پر بات کریں گے۔ وہ نیو یارک پہنچنے کے بعد صحافیوں کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ پی ٹی وی ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق صدر مشرف نے کہا کہ یہ ایک اہم ملاقات ہوگی جس میں پیش رفت کی توقع رکھنی چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ فریقین کو ایک دوسرے کو تسلیم کرنا چاہیے اور آپس میں اعتماد کی فضا پیدا ہونی چاہیے۔ پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹ کے مطابق صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت سے نظام الاوقات کا مطالبہ نہیں کیا۔ خبر میں صدر مشرف کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ اہم موضوعات پر پیش رفت پر زور دیں گے۔ پاکستان کی سیاسی صورتحال کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسمبلیاں کام کر رہی ہیں، اپنی مدت پوری کریں گی اور جمہوریت مضبوط ہوگی۔ پاکستان مشن کے پریس اتاشی منصور سہیل کے مطابق قوی امکان یہی ہے کہ دونوں سربراہان چوبیس ستمبر کو ملاقات کریں گے جس میں مسئلہ کشمیر اور دیگر امور کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ بھی زیر بحث آئے گی۔ نیویارک میں پاکستانی سفارت خانہ نے پاک بھارت سربراہان کی ملاقات پر کوئی رسمی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ لیکن صدر جنرل مشرف اور وزیراعظم من موہن کی پہلی بالمشافہ ملاقات کے اعتبار سے دونوں ممالک کے عوام کی نگاہیں یقیناً اس ملاقات پر رہیں گی۔ صدر مشرف کا شیڈیول صدر جنرل پرویز مشرف بائیس ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ اس کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نیویارک سے واشنگٹن ڈی سی جائیں گے جہاں وہ پانچ سے چھ گھنٹے گزاریں گے جس دوران وہ دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||