| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف کے بیان کا امریکی خیر مقدم
امریکہ نے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس کے مطابق وہ کشمیر کے معاملے پر اہم مطالبات چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ صدر مشرف کا بیان ایک مثبت پیش رفت ہے۔ جنرل مشرف نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ امن کی خاطر کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کے پاکستان کے دیرینہ مطالبے سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں۔ پاکستانی صدر کی یہ پیشکش اسلام آباد میں جنوبی ایشیائی ممالک سارک کی کانفرنس سے ایک ماہ قبل کی گئی ہے۔ اس اجلاس میں کشمیر کا مسئلہ سر فہرست رہے گا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کی رات اپنی رہائش گاہ پر انٹرویو دیتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ اگرچہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے حق میں ہیں تاہم اب وہ انہیں ایک طرف رکھ کر ’لچکدار اور جرآت مندانہ‘ اقدامات کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو چاہئے کہ وہ اپنے طے شدہ موقف کو چھوڑ کر لچک کا مظاہرہ کریں اور بیچ کی راہ اختیار کریں۔ کشمیر میں سرگرم مجاہدین کی ایک تنظیم جمیعت المجاہدین نے صدر مشرف پر کشمیر کے بنیادی موقف سے پھرنے کا الزام لگایا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نظریے کی بربادی پاکستان اور کشمیر دونوں کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||