BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 December, 2003, 16:47 GMT 21:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے بیان پرقاضی کی تنقید

ایم ایم اے کے رہنما

متحدہ مجلس عمل کے قائم مقام صدر قاضی حسین احمد نے کشمیر پر استصواب رائے کا مطالبہ ترک کرنے کی صدر پرویز مشرف کی تجویز پر سخت تنقید کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف پاکستان اور کشمیر کےعوام کو نامنظور ہے اور حکومت آئینی پیکج کے بدلےمجلس سے صدر کے لیے جو اعتماد کا ووٹ مانگ رہی ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی کشمیر اور افغان پالیسی پر مجلس کی حمایت چاہتی ہے، جو مجلس عمل کو قابل قبول نہیں ہے ۔

یہ بات انہوں نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کے پہلے روز ڈیرہ غازی خان میں ایک جلسہ سےخطاب کرتے ہوئے کہی ۔

مجلس عمل نے کمیٹی چوک میں جلسہ کا اعلان کیا تھا لیکن انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر قریب ہی واقع تحصیل چوک میں جلسہ منعقد کیا گیا۔

جے یو آئی کے رہنما حافظ حسین احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے ڈیرہ غازی خان کے کمیٹی چوک میں جلسہ روکنے کے لیے علاقے کو سیل کر دیا تھا اور رات ڈیڑھ بجے جلسہ کے انتظامات کے لیے جانے والے چند کارکنوں کو حراست میں لے کر پورا علاقہ سیل کر دیا تھا، جس پر مجلس عمل کی قیادت نے جلسہ کی جگہ تبدیل کرلی اور کمیٹی چوک کے نزدیک ایک زیادہ کھلی جگہ پر جلسلہ منعقد کر لیا۔

قبل ازیں جلوس صبح دس بجے ملتان کے کلمہ چوک سے روانہ ہوا تو چناب کے پل پر پہلا مختصر قیام اور جلسہ ہوا تھا ،دوسرا جلسہ چوک قریشیاں اور تیسرامظفر گڑھ کے فیاض پارک میں ہوا۔

مجلس عمل کا قافلہ ویگنوں، کاروں اور موٹر سائیکل سواروں پر مشتمل تھا ، گاڑیوں پر حکومت مخالف اور قائدین کے حق میں بینر لگےتھے۔ قافلے کے ہمراہ رہنماؤں نے جگہ جگہ لوگوں سے مختصر خطاب کیا۔

اس دوران ’گو مشرف گو‘ اور ’نامنظور نامنظور پرویز مشرف نامنظور‘اور ’ایل ایف او ختم کرو‘ کے نعرے لگائےگئے۔

جلسوں سے مرکزی قائدین ایم ایم اے کے قائم مقام صدر قاضی حسین احمد، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، سمیع الحق اور لیاقت بلوچ اور حافظ حسین احمد نے بھی خطاب کیا۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ چاروں صوبوں کے عوام کو متحرک کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیاہے اور یہ کام مکمل کرنے کے بعد اس عوامی قافلے کا رخ اسلام آباد کی طرف موڑ دیا جائے گا ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے اصل ثالث خود کشمیری ہیں اور اقوم متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انہیں ہی ثالث قرار دیا گیاہے اور اگر انہیں ہی معاملہ سے باہر نکال دیا جائے تو پھر مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل نے تشدد نہیں بلکہ دلیل کی بنیاد پر بات کی تھی لیکن حکومت نہیں مانی اور آئینی پیکیج پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا ۔

جے یو آئی کے حافظ حسین احمد نے کہا کہ آئینی پیکیج پر مذاکرات کامیاب ہو چکے تھے اور پارلیمانی قیادت اتفاق کر چکی تھی لیکن عسکری قیادت نے یہ سارا معاملہ ہی مسترد کر دیا۔

جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ انہوں نے ایک سال تک حکومت سے مذاکرات کیے لیکن حکومت صرف وقت ضائع کرتی رہی ہے۔ اور وعدہ کے مطابق وہ آئینی پیکیج ایوان میں نہیں لائی اور اب انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

مبصرین کا کہنا ہےکہ مجلس عمل کے قافلے اور جلوس کے شرکاء کی تعداد توقع سے بہت کم رہی تاہم جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ریاض درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈیرہ غازی خان کے جلسہ کے شرکاء کی تعداد ٹھیک تھی اور جیسے جیسے کارواں آگے بڑھتا جائے گا شرکاء کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

جمعہ کو اسی طرح مختصر قیام اور جلسہ کرتے ہوئے قافلہ خانیوال ، میاں چنوں ، سے ہوتا ہوا چیچہ وطنی پہنچے گا جہاں بڑا جسلہ ہوگا اور نماز جمعہ کی ادائیگی ہوگی۔ پھر ساہیوال سے ہوتا ہوا جلوس اوکاڑہ پہنچے گا اور وہاں ایک بڑے جلسہ سے خطاب ہوگا۔

لاہور میں ایک دن کے آرام کے بعد قافلہ شیخو پورہ اور پھر سرگودھا کی جانب روانہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہر سے قافلے میں شرکاء اور گاڑیوں کی تعداد بڑھتی چلی جائےگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد