BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 December, 2003, 14:54 GMT 19:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر معمولی حفاظتی انتظامات

ٹوٹے پُل پر سیکیورٹی کے اہلکار
مشرف پر حملے سے سیکیورٹی میں خاصی خامی نظر آئی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چار جنوری سے شروع ہونے والے تین روزہ سارک کانفرنس کے لیے ‏‏غیر معمولی حفاظتی انتظام کیے جا رہے۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے پاک فوج سے حفاظتی انتظامات کی نگرانی کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست دی ہے ۔ پاک فوج کے دستوں کے علاوہ دوسرے صوبوں سے بھی پندرہ ہزار پیرا ملٹری فورسز کو اسلام آباد بلایا جا رہا ہے۔

سارک کانفرنس کی اہمیت بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی آمد کی وجہ سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کی سیکیورٹی پر مامور کمانڈوز، بلیک کیٹس، کا ایک گروپ پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکا ہے اور اپنے وزیر اعظم کی پاکستان میں موجودگی کے دوران ان کے حفاظتی انتظامات کی نگرانی کر رہا ہے۔

جمعرات کو صدر پرویز مشرف کو سارک کانفرنس کے موقع پر حفاظتی انتظامات کے بارے ميں وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے خصوصی طور پر بریفنگ دی۔

حفاظتی انتظامات
پاک فوج سے شہر کی نگرانی کی درخواست
پندرہ ہزار افراد پر مشتمل نیم فوجی دستے
واجپئی کی حفاظت کے لیے بلیک کیٹ کمانڈوز
ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤس کی چینکنگ
سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی چھٹیاں ختم
مارگلہ ہلز اور دیگر اہم مقامات کی فضائی نگرانی
بھکاریوں کے خلاف گرینڈ آپریشن

اسلام آباد کے ہوٹلوں، موٹلوں اور گیسٹ ہاوسز کی چیکنگ ابھی سے شروع کر دی گئی ہے اور بھکاریوں کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے ۔

مارگلہ ہلز اور دیگر اہم مقامات کی فضائی نگرانی کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

صدر پرویز مشرف کو بم کے دھماکے سے قتل کرنے کی ناکام کوشش کے بعد تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی چھٹیاں ختم کر دی گئی ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ سید فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم جب بھی کسی دوسرے ملک جاتے ہیں تو ان کی سیکیورٹی ان کے ساتھ جاتی ہے۔

ایک پولیس افسر کے مطابق سارک کانفرنس کے موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات اتنے ہی سخت ہوں گے جتنے امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ پاکستان کے دوران دیکھنے میں آ‏‏ئے تھے۔ 2000 میں امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد کو سیل کر دیا گیا تھا اور صرف ان لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دی گئی تھی جن کو خصوصی طور پر پاس جاری کیے گئے تھے۔

بدھ کو چیف کمشنر اسلام آباد ، جنید اقبال چوہدری کی سربراہی میں ایک اجلاس میں حفاظتی منصوبے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ اجلاس میں ٹرپل ٹو بریگیڈ کے کمانڈنٹ نے بھی شرکت کی۔ اسی اجلاس کے دوران تمام انٹیلجنس ایجنسیوں اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دی۔

سیکیورٹی پلان کے مطابق اسلام آباد کو انر کارڈون ، آؤٹر کارڈون اور آؤٹر موسٹ کارڈون میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور سپیشل برانچ کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد