| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف قاتلانہ حملے سے کیسے بچے؟
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف پل کے نیچے ہونے والے بم دھماکوں سے صرف اس لیے بچ گئے کہ وہ جس گاڑی میں سفر کر رہے تھے اس میں ریڈیو سگنل کو منجمد کرنے والا نظام کام کر رہا تھا۔ راولپنڈی میں اتوار کو پاکستانی صدر پر ہونے والے اس قاتلانہ حملے میں رموٹ کنٹرول سے بموں کے پانچ دھماکے کیے گئے۔ رموٹ کے ذریعے چلائے جانے والے یہ بم اس پل کے نیچے لگائے گئے تھے جس پر سے صدر مشرف کو گزرنا تھا۔ تاہم جب جبنرل مشرف کی گاڑی پل پر سے گزرنے والی تھی تو غالباً ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلائے جانے والے بموں کو جاری کیے جانے والے سگنل گاڑی کے اندر لگے ہوئے نظام کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوگئے اور اس وقت پھٹے جب پورا قافلہ اور وہ گاڑی بھی پل پر سے گزر گئی جس میں جنرل مشرف سوار تھے۔ پاکستانی وزیر برائے اطلاعات و نشریات شیخ رشید اس سے پہلے بی بی سی کو بتا چکے ہیں کہ پاکستانی ماہرین ابھی شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں، لیکن اب تک کی تحقیقات سے صرف یہ معلوم ہوا ہے کہ حملے میں استعمال کئے جانے والے بم جدید ساخت کے تھے اور پاکستان میں اس سے پہلے کبھی اس نوع کے بم کسی واقعے میں استعمال نہیں کیے گئے۔ وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے ان بموں کا استعمال کیا ہے وہ اس شعبے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ تاہم انہو ں نے یہ نہیں بتایا یہ بم کہاں کے بنے ہوئے تھے یا حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اس دھماکے کے بعد صدر مشرف کے لیے حفاظتی انتظامات اور ان کے گرد سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ راولپنڈی کے علاقے چکلالہ میں واقع ایک پل کے نیچے دھماکوں سے پل کا کافی حصہ اڑ گیا اور سڑک کو شدید نقصان پہنچا۔ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
صدر مشرف نے خود اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان پر ہونے والا یہ حملہ مذہبی شدت پسندوں کا کام ہو سکتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ان (مشرف) کی امریکہ کی حمایت کے خلاف ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نقل و حرکت کے لیے سیاہ رنگ کی مرسیڈیز استعمال کرتے ہیں اور ان کا قافلہ دو یا اس سے زائد ایک جیسی مرسیڈیز گاڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے یہ اندازہ لگانا خاصل مشکل ہوتا ہے کہ صدر خود کس گاڑی میں سفر کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||