| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بیرونی نہیں اندرونی خطرات کا سامنا ہے‘
صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کو بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خطرات کا سامنا ہے۔ جمعہ کے روز کراچی میں دوسری آگستا آبدوز کے بحری بیڑے میں شمولیت کے موقع پر ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ سال خود کش حملے میں گیارہ فرانسیسی ٹیکنیشز کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے ان کے خاندانوں سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت، مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی ملک کو دیمک کی طرح کھا رہی ہیں۔ صدر مشرف نے کہا پاکستان کی قوت دو ستونوں پر قائم ہے: ہماری معیشت اور ہماری مسلح افواج۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج حملے کی صورت میں بھر پور جوابی کارروائی کریں گی۔ کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دفاع کے لئے ہتھیار حاصل کرنے کی پاکستانی حمکت عملی بلاجواز نہیں ہے اور اسے جاری رکھا جائے گا۔ ’ہماری حکمت عملی دفاعی ہے اور ہمارا کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو ہم اپنا بھرپور دفاع کریں گے اور اس دفاع کے دوران ہم اپنی جنگی صلاحیتوں کا بڑھ چڑھ کر اظہار کریں گے۔ ہم ہمیشہ صرف دفاعی پوزیشن پر ہی کاربند نہیں رہیں گے بلکہ اپنے دفاع میں بھرپور حملے بھی کریں گے۔یہی ہماری حمکت عملی ہے۔‘ ’ایل او سی پر جنگ بندی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایل او سی کی حیثیت کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||